نیتن یاہو کے مشیر پر حماس معاہدہ روکنے کے لیے خفیہ دستاویزات لیک کرنے کا الزام
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کرپشن کے بعد ایک اور اسیکنڈل میں سخت دباو کا شکار ہیں، اسرائیلی وزیراعظم کے کچھ مشیروں پر الزام ہے کہ انھوں نے کئی ماہ پہلےحماس کے ساتھ ہونے والے ایک متوقع معاہدے کو روکنے کے لیے خفیہ دستاویزات کو لیک کیا۔ ان الزامات سے متعلق تحقیقات جاری ہیں جن میں اسرائیلی وزیراعظم کےقریبی میڈیا مشیر ایلی فیلڈسٹین سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکس کےمرکزی کردار ایلی فیلڈسٹین اسرائیلی فوج سے ریٹائر ہیں اور نیشنل سیکورٹی کے انتہا پسند وزیر بن گوئیر کے سیکورٹی انچارج بھی رہے ہیں۔ وہ اسرائیلی شباک کی کلیرنس بغیر نیتن یاہو کی میڈیا ٹیم میں کام کر رہے تھے۔
ان کی گرفتاری میں چھ دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔ ایلی فیلڈسٹین، پر انٹیلیجنس دستاویزات تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنے اور انہیں میڈیا میں لیک کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ سیکورٹی اداروں اور اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ان لیکس نے نہ صرف ریاستی سلامتی کو خطرے میں ڈالا بلکہ یرغمالیوں کی رہائی کے مذاکرات میں بھی خلل ڈالا۔ اپوزیشن جماعتوں اور سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل حماس اوراسرائیل کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کو نیتن یاہو کے دفتر نے سیاسی مفادات کے پیش نظر ناکام بنایا اور اس کے لیے خفیہ انٹیلیجنس معلومات کو میڈیا میں لیک کیا، جس نے نہ صرف ریاستی سلامتی کو خطرے میں ڈالا بلکہ یرغمالیوں کی رہائی کے مذاکرات میں بھی خلل ڈالا۔
نتین یاہو نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور ان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ تاہم، اپوزیشن اور دیگر ناقدین نے وزیراعظم پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے سیاسی فائدے کے لیے خفیہ معلومات کا غلط استعمال کیا۔ یائر لاپید اور بینی گینٹز جیسے اپوزیشن رہنماوں نے نیتن یاہو کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ لیکس میں شامل یا نااہل ہیں۔ عوامی حلقے بھی وزیراعظم سے جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔یہ معاملہ اسرائیلی سیاست میں ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے اور وزیراعظم نیتن یاہو کی قیادت پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یاد رہے اس سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ پر کرپشن کے الزامات کے تحت مقدمہ قائم ہے، جس کی سماعت جاری ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں