عرب ووٹرز کا کملا ہیرس کو انکار

2024 کے صدارتی انتخابات کے قریب آتے ہی امریکی ریاست مشی گن میں عرب ووٹروں کی اہمیت ایک بار پھر بڑھ گئی ۔ مشی گن میں عرب امریکیوں کی سب سے بڑی تعداد مقیم ہے ، گزشتہ صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جیت کے لیے عرب امریکیوں نے اہم ترین کردار ادا کیاپچھلی بار جو بائیڈن نے تقریباً 70 فیصد عرب ووٹوں کے ساتھ مشکن میں کامیابی حاصل کی تھی، مگر اس بار کملا ہیرس کے لیے صورتحال زیادہ مشکل دکھائی دے رہی ہے ۔

غزہ اسرائیل جنگ کے بعد عرب کمیونٹی میں ڈیموکریٹس کے لیے حمایت خاصی کم ہوگئی ہے، جس کی بڑی وجہ بائیڈن-ہیرس انتظامیہ کی اسرائیل حمایت بتائی جا رہی ہے۔ڈیئر بورن کے رہائشیوں اور ڈیٹرائٹ کی عرب کمیونٹی کے افراد نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ڈیٹرائٹ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ اب ہیرس کو ووٹ نہیں دیں گے ، کیونکہ وہ فلسطین میں ہونے والی قتل و غارت کی ذمہ دار ہیں۔

امریکہ-اسلامک ریلیشنز کونسل کی جانب سے اگست کے آخر میں کرائے گئے سروے کے مطابق، مشی گن میں 40 فیصد مسلم ووٹروں نے گرین پارٹی کی جِل اسٹائن کی حمایت کا اظہار کیا ۔ ایک فلسطینی نژاد امریکی وکیل، فاضل نبیلسی نے کہا کہ جِل اسٹائن مشرق وسطیٰ کے لیے اہم ہیں کیونکہ وہ اینٹی وار امیدوار ہیں، اور جو کچھ ہم مشرق وسطیٰ میں دیکھ رہے ہیں، یہ ضروری ہے کہ ہم اینٹی وار امیدواروں کی حمایت کریں۔

سروے میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو 18 فیصد ووٹ ملے، جب کہ ہیرس صرف 12 فیصد ووٹ لے سکیں۔عرب امریکن پولیٹیکل ایکشن کمیٹی، جو پچھلے 27 سالوں سے انتخابات میں امیدواروں کی حمایت کرتی آئی ہے، اس بار کسی بھی امیدوار کی حمایت کرنے سے گریز کر رہی ہے۔

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے