مستفیض کو آئی پی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کہاں ہوا؟ بھارتی میڈیا کا دعویٰ سامنے آگیا

ممبئی: بنگلادیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے ریلیز کرنے کے معاملے کے بعد  انڈین پریمیئر لیگ کی شفافیت پر ایک بار پھر سوال اٹھ گئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مستفیض کو آئی پی ایل سے ریلیز کرنے کے فیصلے کیلئے کوئی  باضابطہ اعلان کردہ اجلاس ہی نہیں بلایا گیا۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالنے کا فیصلہ بورڈ کے اعلیٰ سطح پر کیا گیا۔

بھارتی آفیشل کا کہنا ہے کہ  مستفیض الرحمان کو ریلیز کرنے کے فیصلے کا ہمیں بھی میڈیا سے پتہ چلا نہ بات چیت ہوئی نہ صلاح مشورہ کیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق میٹنگ میں بھارتی بورڈ اور آئی پی ایل گورننگ کونسل کے تمام اراکین موجود نہیں تھے۔

یاد رہے کہ بھارتی بورڈ کے سیکرٹری دیوا جیت سائیکیا نے مستفیض الرحمان کوآئی پی ایل سے ریلیز کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جس کے بعد بنگلا دیش کرکٹ نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہوئے میچز بھارت سے منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہوا ہے۔

علاوہ ازیں بنگلا دیش حکومت نے آئی پی ایل کے میچز بنگلا دیش میں دکھانے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

یاد رہے کہ مستفیض الرحمن کا کولکتہ نائٹ رائیڈرزکے ساتھ9.20 کروڑ بھارتی روپے کا کنٹریکٹ ہوا تھا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے