اسرائیلی فٹبالر کی مبینہ نفرت انگیز پوسٹس پر احتجاج، جرمن کلب نے معاہدہ ختم کردیا
جرمنی کے معروف فٹبال کلب فورٹونا ڈسلڈورف نے اسرائیلی اسٹرائیکر شون وائز مین کے ساتھ معاہدہ منسوخ کردیا ہے، یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب کھلاڑی کی سوشل میڈیا پر غزہ جنگ سے متعلق متنازع پوسٹس منظرعام پر آئیں، جن پر شائقین نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔
کلب نے ایک مختصر بیان میں اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شون وائز مین کے بارے میں مکمل جانچ کرنے کے بعد بالآخر اسے سائن نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اگرچہ کلب نے فیصلے کی تفصیل بیان نہیں کی، تاہم جرمن اخبار بلڈ کے مطابق، کلب کو شائقین کی جانب سے اسٹرائیکر کے آن لائن بیانات پر شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ ان بیانات کو بعض حلقوں نے ’توہین آمیز اور امتیازی‘ قرار دیا۔
شون وائز مین سپین کے کلب گریناڈا سے فورٹونا ڈسلڈورف منتقل ہونے والے تھے اور وہ پہلے ہی جرمنی پہنچ کر میڈیکل ٹیسٹ بھی مکمل کر چکے تھے۔
پیر کے روز جب ان کی ممکنہ شمولیت کی خبریں سامنے آئیں تو سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ ناقدین نے الزام لگایا کہ وائز مین کے بیانات فورٹونا کے اصولوں اور اس کی نمائندہ اقدار کے منافی ہیں۔
پہلے پہل کلب نے کھلاڑی کا دفاع کرنے کی کوشش کی، فورٹونا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں لکھا گیا کہ یہاں کیا ہو رہا ہے، مجھے بار بار پیغامات موصول ہو رہے ہیں، کسی کو اس کے ویکیپیڈیا صفحے کی بنیاد پر جانچنا، یہ ہمارے اقدار کی عکاسی نہیں کرتا۔تاہم بعد ازاں فورٹونا ڈسلڈورف نے یہ پوسٹ ہٹاتے ہوئے شون وائز مین کے ساتھ 5 لاکھ یورو مالیت کا معاہدہ منسوخ کر دیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، وائزمین نے 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد سوشل میڈیا پرکئی اشتعال انگیز بیانات دیے تھے، جن میں مبینہ طورپرغزہ کو نقشے سے مٹا دینے اوراس پر 200 ٹن بم گرانے کی باتیں شامل تھیں، ایک اور پوسٹ کو لائک کرتے ہوئے ان کی جانب سے مبینہ طور پر کہا گیا تھا کہ غزہ میں کوئی معصوم نہیں، انہیں خبردار کرنے کی ضرورت نہیں۔
2023 میں سپین میں ان کے خلاف نفرت انگیز مواد کے الزام میں قانونی شکایت بھی دائر کی گئی تھی، تاہم ان کے ایجنٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ بیانات ان کے سوشل میڈیا مینیجر کی جانب سے دیے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں حذف کر دیا گیا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ غزہ جنگ کے اثرات جرمن فٹبال لیگ یعنی بندس لیگا پر مرتب ہوئے ہوں، اس سے قبل ڈچ کھلاڑی انورالغازی کو ان کے بیانات پر مینز کلب سے برطرف کیا گیا تھا، تاہم وہ عدالت میں ناجائز برطرفی کا مقدمہ جیت چکے ہیں، جو اب اپیل میں ہے۔
اسی طرح مانچسٹر یونائیٹڈ کے کھلاڑی اور سابق بائرن میونخ کے دفاعی اسٹار نصیرمزراوی کو بھی فلسطینیوں کے حق میں بیانات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد انہوں نے معذرت نامہ جاری کیا تھا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں