کپتان محمد رضوان پہلےامتحان میں سرخرو تو آسٹریلیا میں کئی ریکارڈ بھی بن گئے

پاکستان نے آسٹریلیا کو آسٹریلیا میں دو ہزار دو بعد پہلی بار کسی سیریز میں ہرایا۔ اس جیت سے پہلے شاہینوں نے کینگروز کے دیس میں نو سیریز کھیلی ، پانچ ٹیسٹ ، دو ون ڈے اور دو ٹی 20 سیریز میں کامیابی نہ ملی ۔ آسٹریلیا نے پاکستان کو تمام فارمیٹس کے چونیتس میچوں میں اکتیس بار شکست دی ، دو میچز پاکستان نے جیتے ۔
یہ پہلا ایسا موقع تھا جب آسٹریلیا آٹھ یا زیادہ وکٹوں سے مسلسل دو میچ ہارا ۔ یہ بھی پہلی بار ہوا کہ کسی ٹیم نے سو سے زیادہ گیندیں کے رہتے ہوئے آسٹریلیا کو مسلسل دو میچ ہرائے ۔ پاکستان نے بھی پہلی بار کسی ٹیم کا ہدف مسلسل دو بار سو سے زائد گیندوں کے رہتے ہوئے حاصل کیا ۔
ایک سو چالیس رن آسٹریلیا کا پرتھ میں تاریخ کا کم ترین اسکور تھا ۔ پاکستان کے خلاف سیریز میں آسٹریلیا کے بلے بازوں کا ایوریج اسکور سولہ اعشاریہ آٹھ آٹھ رہا ،، یہ انیس سو ستتر کے بعد آسٹریلیا کے بلے بازوں کی کسی بھی سیریز میں سب سے کم ایوریج ہے
پاکستانی فاسٹ بالرز نے سیریز میں چھبیس وکٹیں حاصل کر کے ریکارڈ بک میں نام بھی درج کرایا ۔ تین میچوں کی سیریز میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے میں دوسرے نمبر پر آ گئے۔ آسٹریلیا کے تین ون ڈے میچز میں اٹھائیس کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔ دوسرے میچ میں شان ایبٹ رن آؤٹ ہوئے تو تیسرے میچ میں کُوپرکونلی ریٹائرڈ ہرٹ ہو گئے۔ دو ہزار سات میں ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بالرز نے انگلینڈ کے خلاف ستائیس بلے باز آؤٹ کیے تھے ۔

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے