سٹار لنک کو بھارت میں تجارتی آپریشن کیلئے لائسنس جاری
دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی کمپنی سٹار لنک کو بھارت میں تجارتی آپریشن کے لیے لائسنس مل گیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعہ کو بھارت کی وزارت ٹیلی کمیونیکیشن نے سٹارلنک کو لائسنس جاری کر دیا، تاہم اس اجازت کے باوجودسٹارلنک کو بھارت میں اپنا کام شروع کرنے سے پہلے یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ سکیورٹی کے قوانین اور ضوابط پر پوری اترتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سٹار لنک کو بھارت میں خلائی ریگولیٹر سے علیحدہ لائسنس کی بھی ضرورت ہوگی جس کے حصول کے لیے اسے بھارتی حکومت سے سپیکٹرم حاصل کرنے، زمینی انفرا اسٹرکچر قائم کرنے، ٹیسٹنگ اور ٹرائل کے لیے حفاظتی اصولوں کو پورا کرنا ہوگا۔
سٹارلنک بھارت کی وزارت ٹیلی کمیونیکیشن سے لائسنس حاصل کرنے والی تیسری کمپنی بن گئی ہے۔اس سے قبل یوٹیل سیٹ کی ون ویب اور ری لائنس جیو کو بھی بھارت میں سیٹلائٹ خدمات فراہم کرنے کے لیے منظوری دی جا چکی ہے۔سٹار لنک 2022سے بھارت میں آپریٹ کرنے کے لیے لائسنس کی منتظر تھی۔
ماہرین کے مطابق بھارت کی سیٹلائٹ براڈ بینڈ سروس مارکیٹ 2030 تک 1.9 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔واضح رہےکہ سٹارلنک سیٹلائٹ کے ذریعے ایسے علاقوں کو بھی انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے جہاں یہ سہولت یا تو میسر نہیں ہے یا پھر اس کی رفتار بے حد سست ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت زمینی مدار میں سٹار لنک کے 6 ہزار 764 سیٹلائٹ موجود ہیں جن میں سے 6 ہزار 714 سیٹلائٹ دنیا کے دور دراز مقامات کو تیز رفتار ا ور براڈ بینڈ انٹرنیٹ فراہم کر رہے ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں