پی ٹی اے کا ملک میں وی پی این رجسٹر کرنے کا نیا منصوبہ
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs) کو رجسٹر کرنے کے لیے ایک نیا منصوبہ بنالیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی اے ریگولیٹر نے ایک نئی لائسنسنگ کیٹیگری متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت کمپنیاں وی پی این کی خدمات فراہم کرنے کے لیے اجازت نامے کے لیے درخواست دے سکیں گی، اس سے غیر رجسٹرڈ وی پی این کے مسئلے کو حل کیا جائے گا، لائسنس یافتہ سروس فراہم کنندگان کے ساتھ حکام وی پی این ٹریفک کی نگرانی کر سکیں گے۔
اس ضمن میں پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ملک میں سروس فراہم کرنے والوں کو ڈیٹا سروسز کے لیے کلاس لائسنس کا اجراء دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے، سروس فراہم کرنے والوں کو وی پی این اور متعلقہ خدمات فراہم کرنے کے لیے ڈیٹا کے لیے کلاس لائسنس حاصل کرنا ضروری ہے۔
بتایا گیا ہے کہ پی ٹی اے نے لائسنس یافتہ خدمات کے تحت وی پی این کی ایک نئی کیٹیگری شامل کی ہے، اس منصوبے میں مقامی کمپنیاں جو پاکستان کے قوانین، ان کے لائسنس کی شرائط اور ریگولیٹری دفعات کی پابند ہیں، وہ صارفین کو پراکسی خدمات فراہم کریں گی، کمپنیوں کو ملک بھر میں وی پی این خدمات فراہم کرنے کے لیے لائسنس فیس کے طور پر ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے ادا کرنے ہوں گے، یہ لائسنس 15 سال کیلئے کارآمد ہوں گے اور ایکسپائر ہونے پر اسی مدت مدت کے لیے ان میں توسیع کروائی جاسکے گی۔
پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے چئیرمین سجاد سید نے بتایا کہ وی پی این سروس فراہم کرنے والے پی ٹی اے کو لائسنس کی فیس ادا کریں گے، یہ لائسنس دہندگان اپنے وی پی این کو گاہکوں کو فروخت کریں گے، بالکل اسی طرح جیسے سیلولر کمپنیاں اور آئی ایس پیز اپنی خدمات فروخت کرتے ہیں جب کہ حکومت مقامی وی پی این صارف کے مواد کی نگرانی کر سکتی ہے، اس طرح وی پی این سے متعلق سکیورٹی خدشات کا خاتمہ بھی ممکن ہوجائے گا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں