بہترین سماجی سہولیات والاکشمیر میری منزل ہے، وزیر اعظم آزاد کشمیر
وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ ریاست کے عوام کیلئےمشکلات کے باوجود بجلی اور آٹے پر 71 ارب روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں۔
ایک خوشحال ترقی یافتہ اور بہترین سماجی سہولیات والا کشمیر میری منزل اور جدوجہد ہے۔ اقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ امانت سمجھتا ہوں اور اسے اپنی ریاست اور عوام کی بہتری کیلئے استعمال کرتا ہوں۔شروع دن سے بھرپور کوشش ہے کہ جس جمود نے ہماری ریاست اور عوام کو مشکلات میں گھیرا ہوا ہے اسے ختم کروں۔
ریاست کے پسماندہ اور مظلوم طبقات کی خوشحالی کیلئے سٹیٹس کو ختم کیا۔اپنے بجٹ سے 10ارب روپے کی بچت کرکے سوشل پروٹیکشن فنڈ قائم کیا جس سے مستحق لوگوں کو گھر بیٹھے ماہانہ بنیادوں پر رقم ملے گی۔کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ (کورٹ)ہمارا مثبت تشخص ہے جس نے دنیا پر واضح کیا کہ کشمیری رفاہ عامہ انسانیت اور فلاح و بہبود کے لیے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔ کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ (کورٹ)کو اپنے فلاحی منصوبوں کے لیے حکومت آزاد جموں وکشمیر سے جو جومدد درکار ہوگی اس کے لیے ریاست کے وزیراعظم،کابینہ، وسائل سمیت ساری مشنری حاضر ہے۔

ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے فلاحی تنظیم کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ (کورٹ)کے 19ویں یوم تاسیس کے موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ کورٹ کے بانی چیئرمین چوہدری محمد اختر (تمغہ امتیاز) نے بھی خطاب کیا جبکہ معروف نعت خواں عبدالرزاق جامی اور لوک فنکار سائیں ظہور نے عرفانہ کلام پیش کیا،کورٹ کے بچوں نے حمد ونعت،ڈرامے،ٹیبلو شو اور دیگر شو پیش کیے۔
اس موقع پر وزراء حکومت چوہدری ارشد حسین، چوہدری اظہر صادق،نثار انصر ابدالی،چوہدری قاسم مجید،چوہدری یاسر سلطان،معاون خصوصی محترمہ صبیحہ صدیق، سابق سینئر وزیر ملک محمد نواز،سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ چوہدری محمد اعظم، میجر جنرل (ر) امتیاز،چیئرمین ضلع کونسل راجہ نوید اخترطانیہ،امریکہ، یورپ،مڈل ایسٹ سے کورٹ کے ڈونرز اورمعززین علاقہ،شہریوں اور کورٹ کے سٹاف،طلبا و طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔وزیر اعظم آزاد جموں وکشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا کہ ہم آزاد کشمیر کے عوام کو ہر ممکن سہولیات دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ریاست کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ یہاں کی عوام سماجی اور معاشی طور پر خوشحال ہوں۔حکومت پاکستان نے ہمیشہ آزادکشمیر اور یہا ں کے عوام کی فراخدلانہ امداد کی۔قدرتی آفات،تعمیر نو یا فنڈز کی فراہمی کا معاملہ ہو پاکستان نے آزادکشمیر کے شہریوں کو وہ سہولیات مہیا کیں جو وہاں کے لوگوں کو بھی میسر نہیں ہیں۔ہمارے وسائل محدود ہیں اس کے باوجود آٹے اور بجلی پر 71ارب روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم نے اپنے وسائل سے بچت کرکے 10ارب روپے کا سوشل پروٹیکشن فنڈ قائم کیا۔
ہم نے بیت المال طرز پر سوشل پروٹیکشن فنڈ قائم کیا ہے جس سے صرف معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور باعزت زندگی گزارنے کے لیے ماہانہ پیسے دیں گے۔انھوں نے کہاکہ اس فنڈ کے ذریعے ہم ریاست کے پسماندہ کم آمدن والے غریب،نادار،بیواہ،یتیم،طلاق یافتہ،خصوصی افراد،خواجہ سراء کی مالی مدد کریں گے ہم نے اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی اور قوائد مرتب کیے۔ سوشل پروٹیکشن فنڈز کے لیے ایک لاکھ انیس ہزار سے زائد مستحقین نے درخواستیں جمع کروائی ہیں اگلے ماہ سے پہلے پہل ان میں نہایت ہی ضرورت مند 16سے20ہزار خاندانوں کو 10سے15ہزار روپے ماہانہ کی بنیادوں پر انھیں ایزی پیسہ کے ذریعے اپنے گھر میں ہی ملا کریں گے۔ہم ضرورت مند افراد کی مدد باعزت طریقہ سے کریں گے۔

وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے کہا کہ انسانیت کی خدمت سب سے افضل نیکی ہے اسی میں اللہ تعالیٰ کی رضا دونوں جہانوں کی بھلائی ہے یہ سارے کارباروں سے نفع بخش کاروبار ہے کہ آپ اپنے رب کے ساتھ کاروبار کریں اور اس کی مخلوق کی خدمت کریں اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہم آپ کو بلند مرتبہ عطا فرمائیں گے۔انھوں نے کہاکہ ریاست کے عوام کھلے دل کے مالک ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔کورٹ نے جس طریقہ سے چیرٹی کے پیسے کو ضرورت مندوں پر لگایا اس سے لوگوں کا اعتماد بلند ہوا اور انھوں نے بڑھ چڑھ کر اس ادارہ کی امداد کی اگرچہ سماجی ترقی اور فلاح و بہبود حکومت کی اولین ذمہ داری ہے تاہم جس احسن طریقہ سے کورٹ نے عوام کی خدمت اور دیکھ بھال کی ہے بطور وزیر اعظم اعلان کرتا ہوں کہ آزادکشمیر کے وزیر اعظم،کابینہ کے وزراء ساری مشنری اور وسائل کورٹ کے منصوبوں اور ترقیاتی کاموں کے لیے بلینک چیک کی طرح ہمہ وقت دستیاب ہیں۔آپ کو حکومت آزادکشمیر سے جب بھی جہاں بھی اور جو مدد درکار ہو ہم سب حاضر ہیں۔
اس موقع پر کورٹ کے چیئرمین چوہدری محمد اختر نے خطاب کرتے ہوئے کورٹ کی 19سالہ کارکردگی اور جاری منصوبوں کی تفصیلات بیان کیں۔انھوں نے کہاکہ کورٹ میں یتیم طلبا و طالبات کو رہائش،خوراک کے ساتھ ساتھ مفت اعلیٰ تعلیم دی جارہی ہے جبکہ زلزلہ سیلاب دیگر آفات سے متاثرہ افرا د کو گھر بنا کر دیے ہیں۔کورٹ کا ایک اور کمپلیکس صوابی میں زیر تعمیر ہے جبکہ میرپور میں نجی شعبہ کا سب سے بڑا 560بستروں کا ہسپتال بھی بنا رہے ہیں جو تین سالوں کے اند رمکمل ہوجائیگا اس طرح کوٹلی میں کورٹ کے زیر اہتمام آزادکشمیر کا پہلا برن سینٹر بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں