کشمیریوں سے غداری نہیں کر سکتا، مودی کی پیشکش ٹھکرا دی تھی، ڈاکٹر ذاکر نائیک
اسلامی دنیا کے معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیر کے مسئلے پر حمایت کے بدلے ہندوستان واپسی کی پیشکش کی تھی لیکن میں نے کشمیری بھائیوں کے ساتھ غداری سے انکار کردیا۔
اپنے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے قبل 2018 میں ایک نمائندہ وفد میرے پاس ملائیشیا بھیجا تھا ، وفد نے پیشکش کی تھی کہ آپ ہندوستان واپس آجائیں ہم غلط فہمیاں دور کرنا چاہتے ہیں ، چھ گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت کے دوران نمائندہ وفد نے بتایا کہ انہیں وزیراعظم نریندرا مودی اور وزیرداخلہ امیت شاہ نے ملاقات کے لئے بھیجا ہے ۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ جب میں نے پوچھا کہ آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں تو بتایا گیا کہ غلط فہمیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں، جس پر میں نے کہا کہ میں کبھی بھارت کے آئین کی خلاف ورزی نہیں کی ، اب بھی اگر میں اپنے ملک کے لئے کچھ کام کرسکتاہوں تو انکار نہیں کروں گا لیکن میری دو شرائط ہیں، پہلی شرط یہ ہے کہ مجھ سے جو بھی کام لیا جائے وہ قرآن وسنت کے خلاف نہ ہو ، دوسری شرط یہ ہے کہ میں حکومت سے کوئی مالی فائدہ نہیں لوں گا۔ جس پر وفد نے بتایا کہ ٹھیک ہے تاہم جب گفتگو آگے بڑھی تو مجھے کہا گیا کہ آپ کشمیر کے مسئلے پر حکومت کی حمایت کریں۔
ڈاکٹرذاکر نائیک کہتے ہیں کہ میں نے حکومت کی اس پیشکش پر صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں کشمیری مسلمانوں کے ساتھ غداری نہیں کرسکتا، آزادی کشمیریوں کاحق ہے ، بھارتی قانون کے مطابق کشمیریوں کے ساتھ جو وعدے کئے گئے ہیں ان کو پورا کرناچاہئے ۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک بھارت میں بی جے پی حکومت کی جانب سے مسلسل دھمکیاں ملنے اور اسلام کی تبلیغ میں رکاوٹیں ڈالنے پرجلا وطنی اختیار کرتے ہوئے مائیشیا چلے گئے تھے ۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں