پاکستان نے افغان زلزلہ متاثرین کے لیے 105 ٹن امدادی سامان حوالے کردیا
وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ پاکستان ہر مشکل گھڑی میں افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ بات انہوں نے طورخم بارڈر پر افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان افغان حکام کے حوالے کرنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے افغانستان کے متاثرہ علاقوں کے لیے 105 ٹن امدادی سامان روانہ کیا۔
سامان 40 فٹ کے پانچ کنٹینر ٹرکوں پر مشتمل تھا، جس میں خوراک، ادویات، خیمے، کمبل اور دیگر ضروری اشیا شامل ہیں۔ یہ امداد 3 ستمبر کو اسلام آباد سے روانہ ہوئی اور 4 ستمبر کو طورخم بارڈر پر افغان حکام کے حوالے کر دی گئی۔
سامان حوالگی کی تقریب میں وفاقی وزیر امیر مقام مہمان خصوصی تھے جبکہ پاکستان کے قونصل جنرل جلال آباد شفقت اللہ اور افغانستان کے قونصل جنرل پشاور حافظ محب اللہ شاکر بھی شریک ہوئے۔
امیر مقام نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے افغان عوام سے تعزیت کی ہے اور پاکستان ان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں امن و خوشحالی ایک دوسرے سے جڑے ہیں اور خطے کی ترقی کے لیے دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے افغان مہاجرین کے کیمپ کا بھی دورہ کیا اور سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے نادرا کو خواتین کے لیے علیحدہ کاؤنٹر قائم کرنے اور سہولتوں میں اضافہ، بارڈر پر دوسرا اسکینر لگانے اور نادرا سینٹر ڈبل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔
امیر مقام نے واضح کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے اور پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی باعزت واپسی اولین ترجیح ہے۔افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکر اور افغان ایمبیسی کے نمائندگان نے پاکستان کی بروقت امداد پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں