عراق میں40ہزار زائرین لاپتہ ہونے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سینٹ کمیٹی

اسلام آباد: سینٹ کمیٹی نے عراق میں40ہزارپاکستانی زائرین کے لاپتہ ہونے کا حکومتی دعویٰ مسترد کرتے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں کے توہین آمیز سلوک کانوٹس لینے کی ہدایت کردی ۔

سمندر پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی سے متعلق سینیٹ کمیٹی کااجلاس چیئرمین سینیٹر ذیشان خانزادہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں پی ٹی آئی کے نو منتخب سینیٹر فیصل جاوید نے بھی شرکت کی اورانسانی وسائل کی ترقی کے بارے میں اپنی سفارشات پیش کیں۔

اجلاس میں سینیٹرز شہادت اعوان، ضمیر حسین گھمرو، گوردیپ سنگھ، ناصر محمود، سعید احمد ہاشمی، راجہ ناصر عباس، خالدہ عطیب اور عطاء الحق ب ھی شریک ہوئے۔

۔
سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کمیٹی کو بتایا کہ عراق میں 40 ہزار پاکستانی زائرین کے لاپتہ ہونے کادعویٰ سامنے آنے پر یہ معاملہ ذاتی طور پرعراقی قیادت کے ساتھ اٹھایا۔ عراقی وزیر اعظم نے اس دعوے کو غلط کہا ، خود وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے بھی تسلیم کیا کہ 40ہزار زائرین کے لاپتہ ہونے کی بات غلطی تھی۔

کمیٹی کو بیرون ملک پاکستانی قیدیوں کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ 21647 پاکستانی شہری مختلف ممالک کی جیلوں میں قید ہیں جن میں سے 8 ہزار سزا یافتہ ہیں جبکہ 13 ہزار قیدیوں کے کیسز زیرسماعت ہیں، سینیٹر ذیشان خانزادہ نے ہدایت کی کہ تمام ادارے مل کرپاکستانی قیدیوں کے مسئلے کو دیکھیں جس پر وزارت خارجہ کے نمائندے نے بتایا کہ کمیٹی کی ہدایت پر قیدیوں سے متعلق ایک بین وزارتی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

وزارت خارجہ نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں خلیجی ممالک کے ساتھ قیدیوں کا معاملہ اٹھایا جائے گا دوسرے مرحلے میں ملائیشیا، انڈونیشیا اور آسٹریلیا جبکہ تیسرے مرحلے میں برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں نے پاکستانی قیدیوں سے ملاقات کے لیے جیلوں کے دورے شروع کردیئے ہیں تاہم سینیٹر راجہ ناصر عباس نے اس دعوے کی نفی کی۔

 

سینیٹر ذیشان خانزادہ نے وزارت اوورسیز پاکستانیز کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ اجلاس میں پاکستانی قیدیوں کی قانونی اور فلاحی معاونت کے لیے مختص فنڈز کی مکمل رپورٹ اور منشیات کیسز میں سزا پانے والے قیدیوں کی مکمل تفصیل پیش کریں۔ کمیٹی نے اوورسیز پاکستانیوں کے قائم خصوصی عدالتوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔

 

اجلاس کے دوران کمیٹی کو بتایا گیااٹلی جانے والے 50فیصد پاکستانی غیرقانونی راستوں کا سہارہ لیتے ہیں۔ کمیٹی نے ایسی رپورٹس پر سخت تشویش کااظہار کیا جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غیر قانونی طورپرپاکستان چھوڑنے کے لئے بہت سے شہری 70،70 لاکھ روپے ادا کرتے ہیں ۔ کمیٹی نے بیرون ملک جانے کے خواہش مند افراد کے لئے سسٹم بہتر بنانے کی ہدایت کی ۔

 

سینیٹر ذیشان خانزادہ کے سوال کرنے پر حکام نے بیلا روس کے ویزوں سے متعلق بتایا کہ روسی زبان کے آن لائن کورسز کے لئے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دی جارہی ہے

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے