چوہدری رحمت علی خالق نظریہ پاکستان
تحریر: انجینئر افتخار چودھری
"ہندوستان میں مسلمان اپنی ایک علیحدہ قوم ہیں، ان کی اپنی تہذیب، ثقافت، روایات، اور مذہب ہے، اور انہیں ایک آزاد ریاست میں رہنے کا حق حاصل ہے۔”
یہ وہ بنیادی سوچ تھی جو چوہدری رحمت علی نے پیش کی اور جو بعد میں ایک حقیقت بن گئی۔ جب برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی تحریک اپنے ابتدائی مراحل میں تھی، تب ایک نوجوان سوچنے والے نے ایک ایسا تصور دیا جو ایک نئی قوم کی بنیاد بنا۔ وہ نوجوان کوئی اور نہیں بلکہ چوہدری رحمت علی تھے، جنہوں نے پہلی بار "پاکستان” کا نام دیا اور اس کے قیام کی مکمل وضاحت کی۔
چوہدری رحمت علی 16 نومبر 1897 کو مشرقی پنجاب کے ہوشیارپور ضلع میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے، جہاں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی۔ مگر وہ محض ایک طالب علم نہیں تھے، بلکہ ایک مفکر اور دور اندیش سیاستدان بھی تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل پر گہری نظر رکھی اور 1933 میں ایک ایسا نظریہ پیش کیا جو برصغیر کے مسلمانوں کی منزل بن گیا۔
چوہدری رحمت علی نے 28 جنوری 1933 کو اپنے مشہور پمفلٹ "Now or Never” میں پہلی بار لفظ "پاکستان” متعارف کرایا۔ اس پمفلٹ میں انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کا خاکہ پیش کیا اور واضح الفاظ میں کہا کہ ہندو اور مسلمان دو علیحدہ قومیں ہیں، جن کا ایک ساتھ رہنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق، "پاکستان” کا مطلب تھا:
P – پنجاب
A – افغان (خیبر پختونخوا)
K – کشمیر
S – سندھ
TAN – بلوچستان
یہ وہ پانچ خطے تھے جہاں مسلمان اکثریت میں تھے، اور چوہدری رحمت علی کا کہنا تھا کہ انہیں ایک آزاد اسلامی ریاست میں یکجا ہونا چاہیے۔
اکثر لوگ پاکستان کے نظریاتی بانی کے طور پر علامہ محمد اقبال کا نام لیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کا براہِ راست مطالبہ نہیں کیا۔ اقبال نے 1930 میں اپنے خطبہ الہ آباد میں مسلمانوں کے لیے ایک خودمختار ریاست کی بات کی، مگر انہوں نے "پاکستان” کا نام نہ لیا اور نہ ہی اس ریاست کی مکمل تفصیلات بیان کیں۔
اقبال درحقیقت امت مسلمہ کی نشاطِ ثانیہ کے شاعر تھے، جن کا خواب صرف برصغیر تک محدود نہیں تھا بلکہ پورے عالم اسلام کے احیاء سے جڑا تھا۔ ان کی شاعری اور خیالات نے مسلمانوں میں بیداری پیدا کی، مگر عملی طور پر کسی خاص ریاست کا نام یا خاکہ پیش کرنا ان کا مقصد نہیں تھا۔
دوسری طرف چوہدری رحمت علی نے ایک باقاعدہ منصوبہ دیا، ایک مخصوص نام تجویز کیا، اور آزادی کے لیے ایک واضح حکمتِ عملی بھی پیش کی۔ اگر ہم نظریاتی طور پر دیکھیں تو پاکستان کا خالق درحقیقت چوہدری رحمت علی ہی ہیں، نہ کہ علامہ اقبال۔
چوہدری رحمت علی کا نظریہ بہت ہی جاندار اور واضح تھا، مگر بدقسمتی سے مسلم لیگ کے قائدین نے ابتدا میں اس نظریے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ حتیٰ کہ جب 1947 میں پاکستان وجود میں آیا، تب بھی رحمت علی نے کہا کہ یہ پاکستان، میرے خوابوں کا پاکستان نہیں ہے۔ وہ ایک مضبوط اسلامی ریاست چاہتے تھے، مگر جو کچھ ہوا وہ ان کے تصور سے مختلف تھا۔
چوہدری رحمت علی نے قیام پاکستان کے بعد بھی ایک مکمل اسلامی ریاست کے لیے کوششیں جاری رکھیں، مگر انہیں کوئی خاص پذیرائی نہ ملی۔ یہاں تک کہ وہ 1951 میں انگلینڈ میں وفات پا گئے اور ان کی تدفین بھی وہیں ہوئی۔
پاکستان کی تاریخ میں چوہدری رحمت علی کے کردار کو نظرانداز کیے جانے کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ مسلم لیگ نے برصغیر میں ایک تدریجی جدوجہد کے ذریعے پاکستان بنایا، جبکہ چوہدری رحمت علی کا مطالبہ بہت جراتمندانہ تھا، جسے اس وقت کے لیڈران نے غیرحقیقت پسندانہ سمجھا۔ دوسری بات یہ کہ وہ زیادہ تر مغرب میں رہے اور براہِ راست عوامی سیاست میں شامل نہ ہو سکے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ حکومتی پالیسیوں سے خوش نہیں تھے اور انہوں نے کئی بار اختلاف کیا، جس کی وجہ سے انہیں تاریخ میں وہ مقام نہیں دیا گیا جو ان کا حق تھا۔
تاریخی حقائق کو دیکھا جائے تو چوہدری رحمت علی ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے پاکستان کا نام دیا، اس کی وضاحت کی، اور اس کے قیام کے لیے مکمل نظریہ پیش کیا۔ علامہ اقبال امتِ مسلمہ کی بیداری کے شاعر تھے اور ان کا وژن عالمی اسلامی احیاء تھا، جبکہ چوہدری رحمت علی نے ایک مخصوص ریاست کا واضح تصور دیا۔
پاکستان کی نئی نسل کو یہ حقیقت جاننی چاہیے کہ اگر "پاکستان” کا کوئی خالق تھا تو وہ چوہدری رحمت علی تھے۔ ہمیں ان کی خدمات کو تاریخ میں درست مقام دینا چاہیے اور ان کے افکار کو عام کرنا چاہیے تاکہ ہر پاکستانی اپنے حقیقی معمار کو پہچان سکے۔قومیں اپنے ہیروز کو نہیں بھولتیں ان کا امانتا دفن جسد خاکی پاکستان لایا جائے
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں