ملائیشیا میں ٹِک ٹاک پر سرمایہ کاری کے فراڈ میں تشویشناک اضافہ
رائل ملائیشین پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ ٹِک ٹاک مجرمانہ گروہوں کی پسندیدہ ایپ بنتی جا رہی ہے، جہاں وہ سوشل میڈیا صارفین کو سرمایہ کاری پر دھوکے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔۔ کمرشل کرائم انویسٹی گیشنز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر محمد یوسف کے مطابق 2021 سے اکتوبر 2024 تک ٹِک ٹاک پر سرمایہ کاری فراڈ کے کیسز میں 90 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
کمرشل کرائم انویسٹی گیشنز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ 2021 میں ایسے صرف 13 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 2022 میں یہ تعداد بڑھ کر 27، 2023 میں 59، اور 2024 کے ابتدائی دس مہینوں میں 131 کیسز تک پہنچ گئی۔ متاثرین میں خواتین کی تعداد 66 اور مردوں کی 65 رہی، جبکہ زیادہ تر متاثرین کی عمر 31 سے 40 سال کے درمیان تھی ۔
یہ بھی پڑھیں:یوکرین کی جانب سے امریکی ساختہ میزائلوں سے حملہ ، روس کی جوابی کارروائی کی تیاری
انہوں نے مزید بتایا کہ مصنوعی ذہانت اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مجرم مشہور شخصیات کی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے جعلی اشتہارات بنا کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچنا اور اپنی شناخت چھپانا مجرموں کے لیے آسان ہو گیا ہے۔
ڈائریکٹر محمد یوسف نے کہا کہ ملٹ واٹر ڈاٹ کام کے مطابق جنوری تک ملائیشیا میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 28.68 ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جو ملک کی 34.5 ملین آبادی کا 83.1 فیصد ہے۔
انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی سرمایہ کاری کے اشتہار پر بغیر تصدیق کے یقین نہ کریں۔ پولیس کی متعدد وارننگز کے باوجود کئی صارفین ان فراڈز کا شکار ہو رہے ہیں۔ رملی نے کہا کہ عوام کو چوکنا رہنا چاہیے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دینی چاہیے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں