عدالت کو ملٹری تحویل میں ملزمان کو میسر سہولیات کی تفصیلات دینے سے انکار

وفاقی حکومت کے وکیل نے ملٹری تحویل میں موجود ملزمان کو دی جانے والی سہولیات کو خفیہ قرار دیتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ میں تحریری رپورٹ جمع کرانے سے انکار کردیا۔

ذرائع کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد وحید خان نے کائنات گل کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر خدیجہ صدیقی عدالت میں پیش ہوئیں۔ وکیل وفاقی حکومت، ملٹری کی تحویل میں موجود ملزمان کو موجود سہولیات کی رپورٹ سمیت عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل وفاقی حکومت نے دلائل دیے کہ رپورٹ خفیہ ہے، وکیل درخواست گزار کو فراہم نہیں کی جاسکتی۔ جسٹس وحید خان نے ہدایت دی کہ آپ مجھے رپورٹ جمع کروائیں۔ وکیل وفاقی حکومت نے دلائل دیے کہ یہ ایک کلاسیفائیڈ رپورٹ ہے، عدالت میں بھی جمع نہیں کروائی جا سکتی۔

جسٹس وحید خان نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے عدالت میں بھی رپورٹ جمع نہیں کروانی تو پھر رپورٹ لانے کا فائدہ کیا ہے؟ ہم رپورٹ دیکھنا چاہتے ہیں آپ آئندہ سماعت پر ہر صورت تحریری رپورٹ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ آئندہ سماعت پر ایسی رپورٹ بنا کر لائیں جو آپ عدالت اور درخواست گزار کو فراہم کر سکیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت بارہ دسمبر تک ملتوی کر دی۔

فیض حمید سے بیان دلوا کر مجھے ملٹری کورٹ لے جایا جائے گا: عمران خان

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے