فتنہ الخوارج دہشت گردوں کی عالمی آماجگاہ، ہم کسی عالمی تنازعہ کا حصہ نہیں بنیں گے، آرمی چیف

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اسلام آباد میں مارگلہ ڈائیلاگ کی خصوصی تقریب سے خطاب کیا ۔ ’’امن اور استحکام میں پاکستان کا کردار” کے موضوع پر گفتگو کی اور علاقائی ہم آہنگی اور بین الاقوامی امن کو آگے بڑھانے میں نمایاں کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔۔
آرمی چیف نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دُنیا کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔۔ٹیکنالوجی نے جہاں معلومات کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا وہیں غلط اور گمراہ کُن معلومات کا تیزی سے پھیلاؤ ایک اہم چیلنج ہے ۔ جامع قوانین اور قواعد و ضوابط کے بغیرغلط اور گمراہ کن معلومات ، نفرت انگیز بیانات ، سیاسی اور سماجی ڈھانچے کوغیر مستحکم کرتے رہیں گے ۔ قواعد وضوابط کے بغیرآزادی اظہار رائے تمام معاشروں میں اخلاقی قدروں کی تنزلی کا باعث بن رہی ہے۔۔
سپہ سالار نے کہا کہ دُنیا میں کئی تبدیلیوں کے پیش نظرغیر ریاستی عناصر کا اثر و رسوخ بڑھ جانا بھی ایک اہم چیلنج ہے ۔ عالمی سطح پر معیشت ، افواج اور ٹیکنالوجی میں بے انتہا تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ۔ پرتشدد غیرریاستی عناصر اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی عالمی سطح پرایک بڑا چیلنج ہے ، عالمی سطح پر مذہبی ، فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پرعدم مساوات ، عدم برداشت اور تقسیم بڑھ رہی ہے ۔
جنرل سید عاصم منیر نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عالمی صحت کی فراہمی جیسے اہم چیلنجز ہمارے مشترکہ مقاصد ہیں ۔ دہشتگردی عالمی سطح پر تمام انسانیت کے لئے ایک مشترکہ چیلنج ہے ۔ اس جنگ میں ہمارا عزم غیر متزلزل ہے۔۔
آرمی چیف نے کہا کہ ہماری مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لئے ایک جامع بارڈرمینجمنٹ رجیم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ فتنتہ الخوارج دنیا کی تمام دہشتگردتنظیموں اور پراکسیزکی آماجگاہ بن چکی ہے ۔ پاکستان افغانستان کی عبوری حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ دہشتگردی کیخلاف افغان سرزمین کا استعمال نہیں ہونے دیں گے اور اس حوالے سے سخت اقدامات کریں گے ۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ویژن عزمِ استحکام نیشنل ایکشن پلان کا ایک اہم جزو ہے جس کا مقصد دہشتگردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہے۔
سپہ سالار نے کہا کہ بھارت کے انتہا پسندانہ نظریے کی وجہ سے بیرون ملک خاص طور پر امریکا ، برطانیہ اور کینیڈا میں بھی اقلیتیں محفوظ نہیں ، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا ظلم و بربریت بھی ہندوتوا نظریے اور پالیسی کا تسلسل ہے ۔ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق حل ناگزیرہے۔۔
آرمی چیف نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ غزہ اور لبنان میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ۔ غزہ اور لبنان کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد روانہ کی ، ہمیشہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا ۔ ہم کسی عالمی تنازعہ کا حصہ نہیں بنیں گے مگر دُنیا میں امن و استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ عالمی امن کی خاطردو لاکھ 35 ہزار پاکستانی اقوام متحدہ امن مشن میں اپنا کردار ادا کر چکے ہیں ۔181 پاکستانیوں نے عالمی امن کےلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ پاکستان خطے اور دنیا میں امن کے لئے اپنا مثبت کردار ہمیشہ ادا کرتا رہے گا۔
آرمی چیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان 24 کروڑ عوام کا ملک ہے جس کی لگ بھگ 63 فیصد آبادی 30 سال سے کم ہے ۔ بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال پاکستان دنیا میں زراعت کی پیداوار کے حوالے سے ایک بڑا ملک بن کر ابھرا ہے ۔ یہاں نادر معدنیات کے بڑے ذخائر ہیں ، پاکستان فری لانسنگ کی مد میں عالمی سطح پر ایک اہم ملک ہے۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان ان تمام ذخائر ، منفرد جغرافیائی مقام اور سمندری بندرگاہ کی وجہ سے یورپ ، سنٹرل ایشیا اور مڈل ایسٹ میں تجارت کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے