بھارتی پولیس اور فوج منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ، سنگین الزامات اور تحقیقات کا آغاز

حالیہ واقعہ میں جموں کے پولیس کانسٹیبل کو ہیروئن فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔یہ گروہ جموں کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اور اسپتال سے منشیات کی اسمگلنگ کر رہا تھا۔منشیات کے انسداد کے حکام کے مطابق، یہ گروہ نوجوانوں کو نشے کا عادی بنا کر فائدہ اٹھا رہا ہے، جس سے علاقے میں ہیروئن کے زیادہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔تفتیش جاری ہے تاکہ منشیات کے کاروبار سے حاصل جائیدادوں کا پتہ چلایا جا سکے۔

بھارتی فوج کے اعلیٰ افسران پر منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات دہائیوں سے موجود ہیں۔2017-2021 کے دوران متعدد فوجی افسران کو منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث پایا گیا۔بھارتی فوج مقامی منشیات کے گروپوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے ایل او سی کے پار منشیات کی نقل و حمل میں ملوث ہے۔2021-22 میں گجرات اور مندرہ پورٹ پر لاکھوں ڈالر مالیت کی منشیات کی برآمدگی نے بھارتی فوج کی ملوثیت کو بے نقاب کیا۔بھارتی سیکیورٹی ایجنسیز پاکستان پر الزامات عائد کر کے اپنی اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں۔حالیہ برسوں میں کشمیر میں پولیس، فوج اور نیم فوجی اہلکاروں کی منشیات کی اسمگلنگ میں ملوثیت سامنے آئی ہے۔

بھارتی سیکیورٹی ایجنسیز پاکستان پر منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات عائد کرتی ہیں، جبکہ خود بھارت دنیا کی سب سے بڑی منشیات کی منڈی بن چکا ہے۔بھارت کے اندر منشیات کی فراہمی میں اضافے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ کاروبار بھارت کے اندر ہی چل رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے