کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکا، 26 افراد شہید، 65 سے زائد زخمی، قائم مقام صدر مملکت اور وزیر اعظم کی شدید مذمت
کوئٹہ میں ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر خودکش دھماکے میں خاتون سمیت 26 افراد شہید اور 65سے زائد زخمی ہو گئے۔
ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس نے 9 بجے پشاور کے لیے روانہ ہونا تھا، ٹرین ابھی تک پلیٹ فارم پر نہیں لگی تھی کہ دھماکا ہو گیا، دھماکا ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ گھر کے قریب ہوا۔
کمشنرکوئٹہ محمد حمزہ شفقات نے تصدیق کی ہے کہ ریلوے اسٹیشن پردھماکا خودکش تھا، خودکش بمبار سامان کےساتھ ریلوےاسٹیشن میں داخل ہوا، ایسےکسی شخص کو روکنا مشکل ہوتاہےجو خودکش حملےکے لیےآئے۔

دوسری جانب سول اسپتال کوئٹہ کے ڈاکٹر نور اللہ کے مطابق اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر کے طبی امداد کے لیے اضافی ڈاکٹرز اور عملہ طلب کر لیا ، پولیس سرجن نے خاتون سمیت 26مسافروں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے رابطہ کرتے ہوئے واقعےکی تحقیقات کا حکم دے دیا اور رپورٹ طلب کر لی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ صوبے میں دہشت گردوں کےخلاف کارروائیاں جاری ہیں، متعدد واقعات میں ملوث دہشت گرد پکڑے جا چکے ہیں، بلوچستان سے دہشتگردوں کا قلع قمع کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن کے قریب دھماکے کی شدید مذمت اور جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے اہلخانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی ہے۔
وزیراعظم نے زخمیوں کو ترجیحی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے بلوچستان حکومت سے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم اور نہتے شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے والے دہشتگردوں کو بہت سخت قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ دہشتگردی کی عفریت کے خاتمے کے لیے حکومت اور سکیورٹی فورسز مکمل طور پر سرگرم عمل ہیں۔
پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ اور مختلف مذاہب کے قائدین نے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانیت کے دشمن دہشتگرد خارجیوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ہر سطح پر کارروائی کی جائے۔

چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، علامہ عبدالحق مجاہد، مولانا نعمان حاشر، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا محمد خان لغاری، صاحبزادہ حسان حسیب الرحمن، علامہ سید ضیا اللہ شاہ بخاری، علامہ عارف واحدی، بشپ آزاد مارشل، سردار بشن سنگھ، پادری عمانوئیل کھوکھر اور دیگر قائدین نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر بے گناہ پاکستانیوں کا قتل عام کرنے والے سفاک دہشتگرد اور قاتل ہیں۔
قائدین کا کہنا تھا کہ ان دہشتگرد خارجیوں کے خلاف پوری قوم افواج پاکستان اور ملک کے سلامتی کے اداروں کے شانہ بشانہ ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشتگرد عناصر اور ان کی پشت پناہی کرنے والے عناصر کے خلاف ایکشن لے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی باتیں کرنے والے عناصر اور تنظیمیں بے گناہ پاکستانیوں کے قتل عام پر خاموش ہیں۔ ان افراد اور تنظیموں کو اس قتل عام کے حوالہ سے قوم کو جواب دینا چاہیے۔
پاکستان ریلویز ہیڈکوارٹرز لاہور سے جاری بیان کے مطابق کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ٹرین آپریشن مکمل بحال کردیا گیا ہے۔ جعفر ایکسپریس اور چمن پسنجر کوئٹہ سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئیں جبکہ بولان ایکسپریس بھی کراچی کے لیے روانہ کر دی گئی ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں