ایران پالیسی پر امریکی قیادت میں اختلافات سامنے آگئے
واشنگٹن: ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں کے مستقبل پر واشنگٹن میں عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان حکمتِ عملی سے متعلق اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور اعلیٰ عسکری حکام اس بات پر متفق نہیں کہ ایران کے خلاف کارروائی کو مزید وسعت دی جائے یا محدود رکھا جائے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے حامی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کے مجوزہ منصوبے کے تحت فضائی کارروائیاں تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں تاکہ ایران کی عسکری صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔
اس کے برعکس، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نسبتاً محتاط حکمتِ عملی کے حامی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان کا مؤقف ہے کہ کسی بھی فیصلے میں خطے کی مجموعی سکیورٹی، امریکی مفادات اور مستقبل کے ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں