سرکاری گاڑیوں کے ایندھن سے 50 فیصد کٹوتی، کابینہ ارکان کی تنخواہ بند ہوگی،وزیراعظم

توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کے اہم فیصلے کرلیے، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن سے 50 فیصد کٹوتی، کابینہ ارکان کی تنخواہ بند ہوگی ،دفاتر ہفتے میں چار دن کھلیں گے، بیشتر سرکاری اور نجی اداروں کا 50 فیصد عملہ گھر سے کام کرے گا، اسکولوں میں دو ہفتے کی چھٹیاں دے کر آن لائن کلاسز کرائی جائیں گی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے اہم خطاب میں کہا کہ خطے کو درپیش سنجیدہ اور پر خطر مسئلے پر آپ سے مخاطب ہوں، امن کو لاحق خطرات ہم سب کےلیے تشویش کا باعث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کا سامنا ہے، مسلح افواج بہادر سپہ سالار کی قیادت میں وطن کی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ یقینی بنانے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت پر پاکستان گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور دیگر ملکوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، خلیجی ملکوں پر حملوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں،پاکستان آزمائش کی گھڑی میں ان ملکوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑا ہے، پاکستان ان ملکوں کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔

ان کا کہناتھا کہ آج کی دنیا میں ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران چند ہی دنوں میں دوسرے ممالک میں پھیل جاتا ہے ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت چند روز قبل 60 ڈالر فی بیرل تھی وہ اچانک بڑھ کر 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے ، اگر حالات یونہی بگڑتے رہے تو یہ قیمتیں قابو سے باہر ہو جائیں گی ، ہماری معیشت زراعت ، صنعتوں ، ٹرانسپورٹیشن اور روز مرہ زندگی کا زیادہ انحصار خلیج سے آنے والے تیل اور گیس کی فراہمی پر ہے ، اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے معیشت کے استحکام کیلئے نہایت اہم اور مشکل فیصلے کیے ، ایسے انتظامی اور معاشی فیصلے جو ہرگز آسان نہیں تھے، ہم نے مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات متعارف کروائیں تاکہ پاکستان کو درپیش توانائی بحران کو کم کیا جا سکے۔

شہبازشریف کا کہناتھا کہ تاہم ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہو گی کہ عالمی منڈی میں گیس اور تیل کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے، جب دنیا میں کشیدگی بڑھتی ہے ، جنگ جنم لیتی ہے تو اس کے منفی اثرات براہ راست توانائی کی قیمتوں پر پڑتے ہیں، اسی طرح کے مشکل حالات عالمی سطح پر پیدا ہو چکے ہیں، جس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، آپ کو یقین دلاتاہوں کہ آپ کی حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم رکھا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں جو اضافہ کرنا پڑا وہ انتہائی مشکل اور دل پر پتھر رکھ کر کیا جانے والا فیصلہ تھا،جس کی منظوری دیتے ہوئے میرا دل اور دماغ کشمکش سے گزرے ، دماغ کہتا تھا کہ قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، دل کہتا تھا کہ کہیں غریب نہ پس جائے، مجھے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں موجودہ اضافے سے کہیں زیادہ اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ، ہم نے کوشش کر کے درمیانی راستہ نکالا تاکہ آپ پر بہت زیادہ بوجھ نہ پڑے۔

آپ سب اس بات کے گواہ ہیں گزشتہ برسوں میں پاکستان کو کس قدر مشکل معاشی حالات کا سامنا کرناپڑا، ایک وقت ایسا بھی آیا جب پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے مشکلات کا سامنا تھا۔ ان مشکل ترین حالات میں ہم نے سیاسی فائدے کو پس پشت ڈال کر ریاست اور معیشت کے مفاد ، آپ کے مفاد کو ترجیح دی ، مشکل فیصلوں میں آپ نے ہمارا بھر پور ساتھ دیا، صبر اور حوصلے کا بھر پور مظاہرہ کیا ، اسی طرح مہنگائی میں کمی ہوئی، پالیسی ریٹ نصف ہو چکاہے، روپے کی قدر مستحکم ہے ، بجلی کی قیمت میں بھی بڑی محنت سے کمی لائی گئی ہے ۔آپ کویقین دلاتاہوں کہ ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ آپ پر بوجھ کم سے کم ڈالا جائے، میں بخوبی آگاہ ہوں کہ گھر کے بزرگوں کی دوائی کیلئے پیسے کم پڑ جائیں ، تعلیمی اخراجات کی فکر دل پر بوجھ بن جائے تو باپ ، ماں اور بیٹے کے دل پر کیا گزرتی ہے۔

ان کا کہناتھا کہ اگلے آنے والے چند دنوں میں تیل کی قیمتیں پھر بڑھیں گی ان میں اضافہ ناگزیر ہو گا مگر میری بھر پور کوشش ہو گی کہ تیل کی قیمتوں میں آئندہ اضافے کا بوجھ آپ پر نہ پڑے، اس مقصد کیلئے ہر دن مشاورت اور کاوشیں جاری ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔

میں اشرافیہ سے صاحب حیثیت افراد سے مخاطب ہوں ، آپ جانتے ہیں کہ جب بھی قوم پر مشکل وقت آتاہے تو اس قوم کے صاحب حیثیت افراد جن کے دلوں میں خوف خدا ہوتاہے وہ آگے بڑھ کر دکھی انسانیت کا ہاتھ تھام لیتے ہیں، ہماری تاریخ گواہ ہے کہ مزدور اور محنت کش لوگ ، جو رزق حلال کماتے ہیں ، انہوں نے آگے بڑھ کر قربانیاں دی ہیں مگر آ ج وقت آ چکاہے کہ اشرافیہ آگے بڑھے صاحب حیثیت لوگ آگے بڑھیں جو ذمہ دار معاشرے کے صاحب حیثیت طبقے کو دل میں خوف خدا رکھتے ہوئے کرنا چاہیے، اس تناظر میں آج اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بچت عوامی ریلیف ، کفایت شعاری اور حکومتی معاملات میں سادگی اختیار کرنے کیلئے متفقہ طور پر بہت اہم فیصلے کیئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ تیل کی بچت کےلیے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو 2 ماہ کے لیے بند کیا جارہا ہے، ہفتے میں صرف 4 دن دفاتر کھلیں گے، تیل کی بچت کےلیے ہفتے میں 1 دن کی اضافی چھٹی دی جارہی ہے، اس کا اطلاق بینکوں پر نہیں ہوگا، صنعت اور زراعت کے شعبوں پر ورک فرام ہوم اور ہفتے کی اضافی چھٹی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ فوری طور پرتمام اسکولوں کو رواں ہفتے کے آخر سے 2 ہفتوں کی چھٹیاں دی جارہی ہیں، تمام تعلیمی اداروں میں فوری طورپر آن لائن کلاسز کا آغاز کیا جارہا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ آئندہ 2 ماہ کےلیے کابینہ ارکان، وزرا، مشیران، معاون خصوصی تنخواہ نہیں لیں گے، ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں سے 25 فیصد کٹوتی کی جارہی ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ 20 گریڈ اور اس سے اوپر کے افسران جن کی تنخواہ 3 لاکھ سے زیادہ ہو، ان کی 2 دن کی تنخواہ کی کٹوتی کرکے عوامی ریلیف کےلیے استعمال کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جارہی ہے، سرکاری دفاتر میں گاڑیوں، فرنیچر، اے سی اور دیگر اشیا کی خریداری پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ملکی مفاد کے ضروری دوروں کے سوا وفاقی و صوبائی وزرا، گورنرز، مشیران اور معاون خصوصی، سرکاری افسران کے بیرون ملک دوروں پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ٹیلی کانفرنسز اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دی جائے گی،سرکاری عشائیہ اور افطار پارٹیوں پر بھی مکمل پابندی کردی گئی ہے،سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے سیمینار اور کانفرنسز ہوٹلوں کے بجائے سرکاری مقامات پر منعقد ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری اور نجی شعبے میں انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر 50 فیصد اسٹاف ورک فرام ہوم کام کرے گا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے