ملک بھر میں تحریک انصاف کا احتجاج، لاہور میں گرفتاریاں
تحریک انصاف کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے لاہور اور اوکاڑہ سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں، اس دوران پی ٹی آئی رہنما ریحانہ ڈار کو ان کی بہو عروبہ ڈار سمیت پولیس نے گرفتار کرلیا۔
لاہور میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران ریحانہ ڈار اور ان کی بہو کو حراست میں لے کر قیدیوں کی وین میں منتقل کیا گیا، جہاں ریحانہ ڈار نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حق میں زوردار نعرے بازی کی۔ اسی مظاہرے کے دوران پی ٹی آئی کی وکیل ناز بلوچ کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
ادھر چوہدری اصغر گجر، حافظ ذیشان رشید، عثمان حمزہ، چوہدری نعمان مجید اور حسن محمود کی قیادت میں کینال روڈ لاہور پر ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں درجنوں گاڑیوں نے شرکت کی، شرکا نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے شدید نعرے بازی کی۔
ریلی جب جاتی امرا پائن ایونیو کے قریب پہنچی تو پی ٹی آئی کی چیف آرگنائزر پنجاب عالیہ حمزہ ملک کی پولیس اہلکاروں سے مڈبھیڑ ہوئی، عالیہ حمزہ نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ان کی گاڑی کا شیشہ توڑ دیا، جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے درمیان ماحول کچھ دیر کے لیے کشیدہ ہو گیا۔تحریک انصاف کے سینئر رہنما شوکت بسرا نے گلبرگ کے علاقے میں الگ ریلی نکالی، جس میں پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی کے سینیٹ ٹکٹ ہولڈر مہر عبدالستار کی قیادت میں اوکاڑہ میں بھی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ مہر عبدالستار نے حال ہی میں 21 جولائی کو سینیٹ انتخابات میں حصہ لیا تھا۔
تحریک انصاف نے کارکنان کی گرفتاریوں کے خلاف قانونی محاذ پر بھی سرگرمی دکھائی ہے۔ آئی ایل ایف لاہور کے صدر ملک شجاعت جندران کے مطابق، پارٹی کی جانب سے 3 لیگل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو ماڈل ٹاؤن کچہری، ضلعی کچہری اور کینٹ کچہری میں موجود رہ کر گرفتار افراد کی ضمانت کے لیے قانونی معاونت فراہم کر رہی ہیں۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایک ہفتے کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی ہے، جس کے تحت کسی قسم کے اجتماع یا لوگوں کے اکٹھا ہونے پر پابندی ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن کے مطابق کسی بھی غیرقانونی سرگرمی کا حصہ بننے والوں کی فوری گرفتاری اور دفعہ 144 کیخلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب راولپنڈی میں بھی دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے، جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144کا اطلاق 10 اگست تک رہے گا، اس دوران کسی بھی قسم کے جلسے، جلوس یا ریلی کے انعقاد اور 4 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد ہوگی۔
اڈیالہ جیل حکام نے پولیس سے اضافی سیکیورٹی طلب کرلی ہے، سپرنٹنڈنٹ جیل نے سی پی او راولپنڈی کو لکھے ایک خط میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے آج اڈیالہ جیل کے باہر مظاہرے کی منصوبہ بندی کی ہے، جیل کے باہر سیکیورٹی کے اقدامات کی فوری ضرورت ہے، اڈیالہ جیل کے باہر اضافی پولیس تعینات اور بیریئر نصب کیے جائیں۔
ادھر خیبر پختونخوا میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مختلف صوبائی اضلاع میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔ تمام ریلیوں کی قیادت متعلقہ حلقوں کے اراکینِ اسمبلی اور پارٹی عہدیدار کریں گے۔مرکزی ریلی پشاور میں نکالی جائے گی، جس کی قیادت خود وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کریں گے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں