سپریم کورٹ: طلاق یافتہ بیٹی کی پنشن پر اہم فیصلہ آگیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنشن سے متعلق طلاق یافتہ بیٹیوں کے حق میں تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پنشن کسی بیٹی کو شادی کی حیثیت پر نہیں بلکہ اس کے قانونی حق کی بنیاد پر دی جائے
گی۔ عدالت نے سندھ حکومت کے 2022 میں جاری کردہ امتیازی سرکلر کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔10 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس عائشہ اے ملک نے تحریر کیا، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ:
’پنشن سرکاری ملازم کا قانونی حق ہے، خیرات یا بخشش نہیں، اور یہ حق اہل خانہ کو منتقل ہوتا ہے۔ اس میں تاخیر کرنا جرم کے زمرے میں آتا ہے۔‘
سپریم کورٹ نے فیصلے میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خواتین کے حقوق کے حوالے سے بدترین عالمی درجہ بندی (148 میں سے 148) پر ہے، حالانکہ ہم بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کر چکے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ عورتوں کو مالی طور پر خودمختار تصور نہ کرنا آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں