ٹرمپ نے ایران پر حملے کی منظوری دیدی، حتمی حکم جاری نہیں کیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے منصوبے کی منظوری دے دی۔ لیکن حتمی حکم جاری نہیں کیا۔وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے سینئر مشیروں کو بتایا کہ انہوں نے ایران پر حملے کے منصوبے کی منظوری دے دی لیکن فی الحال حتمی حکم نہیں دیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا ایران اپنا جوہری پروگرام ترک کرتا ہے یا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی اہم جوہری تنصیب فردو امریکی حملے کا ممکنہ ہدف ہے۔ جو ایک پہاڑ کے اندر واقع ہے ۔ عسکری ماہرین کے مطابق صرف انتہائی طاقتور بم سے ہی نشانہ بنائی جا سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا فیصلہ کر چکے ہیں؟، تو انہوں نےجواب دیا کہ امریکا ایران کی جوہری تنصیبات پرحملہ کرے گا یا نہیں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہو رہا ہے۔ ابھی کچھ ختم نہیں ہوا۔ہم ایران پر حملہ کر بھی سکتے ہیں یا نہیں بھی کر سکتے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایران کو 60 دن دئیے تھے۔ ایران کو کئی بار جوہری معاہدے کا کہا گیا، پہلے دورمیں بھی کہا تھا ایران کے پاس جوہری ہتھیارنہیں ہونے چاہئیں۔ صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی ٹیم سے ملاقات کے بعد گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے۔ایران کے ساتھ ڈیل اب بھی ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ کوئی یہ نہیں جانتا کہ میں کیا کرنے جارہا ہوں۔ اگلا ہفتہ اہم ہے، اَن کنڈیشنل سرنڈر کا مطلب ہے ایران یہ کہے بس بہت ہوگیا ، ہم ہار مانتے ہیں ۔اس کے بعد ہم وہاں جاکر تمام جوہری سامان تباہ کردیں گے۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ سپریم لیڈر نے خبردار کیا کہ امریکی فوجی مداخلت کے ناقابل تلافی نتائج برآمد ہوں گے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں