اسرائیلی وزیر دفاع کا شامی حکومت کا تختہ الٹنے اور اسماعیل ہنیہ کے قتل کا اعتراف

اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے شام میں حکومت کا تختہ الٹنے اور ایران میں حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ اور چینل 13 کے مطابق کاٹز نے یمن کے حوثیوں کے اسرائیل پر حالیہ حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے حماس اور حزب اللہ کو شکست دی اور شام میں بشار حکومت کا تختہ الٹا، یمن میں حوثیوں پر بھی فیصلہ کن وار کریں گے۔
کاٹز نے مزید کہا کہ وہ حوثیوں کے اسٹراٹیجک ڈھانچے اور قیادت کو نشانہ بنائیں گے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ جس طرح اسرائیل نے اسماعیل ہنیہ، یحییٰ سنوار، حسن نصر۔اللہ کو نشانہ بنایا، اسی طرح حوثی قیادت کو بھی قتل کیا جائے گا۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی اسرائیلی عہدے دار نے اسماعیل ہنیہ کے قتل اور شام میں بشار حکومت کا تختہ الٹنے کا اعتراف کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

بشار حکومت کا خاتمہ: ہم نے شام کے راستے عسکری سپلائی کا راستہ کھو دیا، حزب اللہ سربراہ

اس سے پہلے اسرائیل نے شام میں باغیوں کی مدد سے بشار حکومت کا تختہ الٹ کر اس کے پانچ سو مربع کلومیٹر علاقے، اور اہم اسٹراٹیجک مقامات پر قبضہ کر لیا تھا۔ شامی باغیوں کے دمشق پر قبضے کے بعد اسرائیل نے شام کی تمام فوجی صلاحیت، جنگی طیارے، بیلسٹک میزائل، ڈرونز ، بحری و فضائی بیڑے، اسلحہ و میزائل سازی کی فیکٹریاں اور اسلحہ کے گودام تباہ کر دیے تھے۔
یاد رہے شام وہ آخری عرب اور اسرائیل کی پڑوسی ریاست تھی جو 77 سال سے اسرائیل کے خلاف برسرپیکار تھی۔ اس سے پہلے اسرائیل نے امریکہ و اتحادی فوجوں کی مدد سے عراق کی فوجی طاقت ختم کی، جب کہ مصر اور اردن جیسے پرانے دشمنوں کے ساتھ معاہدے کر کے انھیں اپنے ساتھ ملا لیا۔
شام وہ آخری ریاست تھی، جو آزادی فلسطین کے لیے متحرک مزاحمتی گروپوں کی عملی مدد کر رہی تھی۔ اسرائیل نے شام کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اپنے لیے ایک اور خطرے کو دور کر دیا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے