بھارتی ریاست منی پور میں حالات کشیدہ، بی جے پی پر شدید تنقید

مودی سرکار کی متعصبانہ پالیسی کی بدولت بھارتی ریاست منی پور میں ہلاکت خیز نسلی فسادات کے باعث حالات مسلسل کشیدہ ہے۔ بی جے پی کو منی پور فسادات پر خاموشی کے باعث شدید تنقید کا سامنا ہے۔

اپوزیشن رہنماوں کا کہنا ہے کہ منی پور میں آئینی حقوق معطل ہیں پھر بھی بی جے پی کے کسی رکن اسمبلی نے مسئلہ نہیں اٹھایا، منی پور سے بی جے پی جماعت کے ارکان پارلیمنٹ کو مستعفی ہوجانا چاہئے۔ بھارتی سیاستدان سشمیتا دیو نے کہا کہ منی پور میں آئین کے تحت لوگوں کو ملنے والے تمام حقوق ضبط کر لیے گئے ہیں، بی جے پی نہ صرف منی پور بلکے آسام میں بھی انتہاپسندی اور نفرت کی سیاست کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی کارپوریٹ کمپنیاں مقبوضہ کشمیر میں ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ کی طرح کام کر رہی ہیں:رپورٹ

جہاں ایک طرف حالات کشیدہ ہیں وہیں دوسری جانب بھارت کا عدالتی نظام بھی مودی کے زیر اثر ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق خصوصی تحقیقاتی ٹیموں نے منی پور کے 3,023 رجسٹرڈ مقدمات میں سے صرف 6 فیصد چارج شیٹ میں داخل کیے۔ دوسری جانب اسلحے سے لیس نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے دو افراد کو بھی ہلاک کر دیا، منی پور میں جاری تنازع مزید بگڑ چکا ہے لیکن مودی سرکار سیاسی فائدے اٹھانے کے لیے نسلی فسادات کو ہوا دے رہی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے