ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے امراض سے تحفظ کیلئے ورزش کرنیکا بہترین وقت کونسا ہوتا ہے؟

ورزش کو صحت کے لیے بہت زیادہ مفید قرار دیا جاتا ہے جس سے وزن کو مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے، بلڈ پریشر کم ہوتا ہے اور ہارٹ اٹیک سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

مگر کیا ورزش کا وقت صحت کے لیے ممکنہ فوائد کے حوالے سے اہم ہوتا ہے؟

جرنل اوپن ہارٹ میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جسم کی اندرونی گھڑی کے مطابق ورزش کرنے کی عادت صحت کے لیے زیادہ مفید ہوتی ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ صبح جلد جاگنے والے یا رات گئے تک جاگنے والے افراد کے ورزش کرنے کا وقت بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی سطح اور نیند کے معیار وغیرہ پر اثرانداز ہوتا ہے۔

یعنی اگر آپ اس وقت ورزش کرتے ہیں جب جسمانی طور پر زیادہ الرٹ ہوتے ہیں تو ورزش کے فوائد زیادہ بڑھ جاتے ہیں، خاص طور پر بلڈ پریشر کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے اور امراض قلب کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔

اس تحقیق میں 150 افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کی عمریں 40 سے 60 سال کے درمیان تھی اور وہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے تھے۔

ہر فرد میں امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والے کم از کم ایک عنصر جیسے بلڈ پریشر، خاندان میں امراض قلب کی تاریخ اور کولیسٹرول موجود تھا۔

اس کے بعد دیکھا گیا کہ یہ افراد رات جلد سوتے ہیں یا رات گئے تک جاگنے کے عادی تھے اور دن کے کس وقت جسمانی طور پر ان کی کارکردگی عروج پر ہوتی ہے۔

بعد ازاں ان افراد کو 12 ہفتوں کے ایک ورزش پروگرام کا حصہ بنایا گیا، جس میں تیز رفتاری سے چہل قدمی، جاگنگ اور ایسی معتدل شدت کی جسمانی سرگرمیوں کو شامل کیا گیا تھا۔

ہر ہفتے 5 دن تک وہ 30 منٹ تک ورزش کرتے اور 12 ہفتوں کے دورن ان افراد کے بلڈ پریشر کی سطح، دل کی دھڑکن کی رفتار، آکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت، نیند کے معیار، خالی پیٹ بلڈ شوگر اور بلڈ کولیسٹرول کی سطح کا مسلسل جائزہ لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ صبح جلد جاگنے یا رات گئے تک جاگنے کے عادی افراد اپنے قدرتی جسمانی ردہم کے مطابق ورزش کرتے ہیں تو بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کی رفتار بہتر ہو جاتی ہے۔

اسی طرح کولیسٹرول، بلڈ شوگر اور نیند کے معیار پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

محققین کے مطابق اس طرح امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ نمایاں حد تک گھٹ جاتا ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ نتائج محدود ہیں کیونکہ ورزش پروگرام کا دورانیہ مختصر تھا اور طویل المعیاد اثرات یا استحکام کے حوالے سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔

اسی طرح تحقیق میں مخصوص افراد کو شامل کیا گیا اور اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے