قابلِ علاج مردانہ بانجھ پن کی تشخیص میں ڈاکٹروں کی کوتاہی سے غیر ضروری آئی وی ایف کا رجحان
قابلِ علاج مردانہ بانجھ پن کی تشخیص میں ڈاکٹروں کی کوتاہی کے باعث بہت سے جوڑے غیر ضروری طور پر مہنگے اور پیچیدہ آئی وی ایف طریقہ علاج کا سہارا لیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مردانہ بانجھ پن کو زیادہ تر نظر انداز کیا جاتا ہے، حالانکہ اعدادوشمار کے مطابق بانجھ پن کے نصف کیسز مردوں کی جانب سے ہوتے ہیں۔
آئی وی ایف یا ”ان ویٹرو فرٹیلائزیشن“ دراصل ایک طبی طریقۂ علاج ہے جس میں مرد کے ’اسپرم‘ (نطفے) اور عورت کے ’ایگ‘ (بیضے) کو لیبارٹری میں ملا کر حمل کے لیے تیار کیا جاتا ہے، اور پھر اسے عورت کے یوٹیرس یا رحم میں منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ عموماً اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب جوڑے قدرتی طریقے سے حاملہ نہیں ہو پاتے، اور یہ مہنگا اور طویل عمل ہو سکتا ہے۔
دی گارجین کے مطابق یونیورسٹی آف مانچسٹر کے آنرری کلینیکل پروفیسر اور اینڈرو لوجسٹ وائبھا موڈگل کے مطابق مردوں کی ابتدائی جانچ میں شدید کمی ہے، جبکہ خواتین کے لیے ہر ممکن ٹیسٹ فوری طور پر کیے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر موڈگل کہتے ہیں کہ خواتین کو طبی جانچ کے ہر مرحلے سے جلد گزارا جاتا ہے، جبکہ مردوں کو بنیادی ٹیسٹ بھی حاصل کرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔ بہت سے جوڑے اسی تاخیر کی وجہ سے آئی وی ایف پر مجبور ہو جاتے ہیں، حالانکہ اکثر مردانہ مسائل قابلِ علاج ہوتے ہیں۔
مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر مائیکل کیرول کہتے ہیں کہ مردوں میں تولیدی صحت کے بارے میں آگہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ بہت سے مرد یہ نہیں جانتے کہ سخت یا تنگ لباس، زیادہ گرم غسل، تمباکو نوشی، شراب نوشی، غیر صحت مند غذا، نیند کی کمی اور ورزش کی کمی ان کی اسپرم کوالٹی پر برا اثر ڈال سکتی ہیں۔
تاریخ کے حوالے سے بھی بانجھ پن کو ہمیشہ خواتین کا مسئلہ سمجھا جاتا رہا ہے اور معاشرتی تاثر یہی رہا کہ ”اگر مرد میں اسپرم یا نطفہ آ رہا ہے تو وہ یقینی طور پر زرخیز ہے“، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مردانہ مسائل بھی اتنے ہی عام اور اہم ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مردوں کی مکمل طبی جانچ اور رہنمائی یقینی بنائی جائے۔
راج ماتُھر، سابق چیئر برٹش فرٹیلٹی سوسائٹی، کہتے ہیں کہ ‘میل اِنفرٹیلیٹی’ یا مردانہ بانجھ پن پر تحقیق بہت کم ہوئی ہے، اور مؤثر تشخیص اور علاج کے لیے مزید سائنسی مطالعات کی ضرورت ہے۔ موجودہ صورتحال میں مردوں کے لیے دستیاب ٹیسٹ محدود اور غیر جامع ہیں۔
مردوں کی جنسی اور تولیدی صحت مہم کے ترجمان کے مطابق اگر مردوں کی مکمل جانچ اور علاج پر توجہ دی جائے تو نہ صرف آئی وی ایف کی غیر ضروری کارروائیوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ جوڑوں کا ذہنی دباؤ اور مالی بوجھ بھی کم ہوگا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں