کافی پینے اور صحت مند بڑھاپے کے درمیان تعلق موجود ہے:تحقیق

بڑھاپے میں تیز ذہن اور صحت مند جسم کے ساتھ پہنچنا چاہتے ہیں؟ تو ہوسکتا ہے کہ اس سلسلے میں کافی سے آپ کو مدد ملے۔یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ٹورنٹو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جو خواتین درمیانی عمر میں روزانہ ایک سے 3 کپ کافی پینے کے عادی ہوتی ہیں، بڑھاپے میں ان کی جسمانی اور دماغی صحت بہترین ہوتی ہے۔اس تحقیق میں 47 ہزار سے زائد خواتین کی غذائی عادات کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔

محققین کے مطابق ہم نے دریافت کیا کہ درمیانی عمر میں معتدل مقدار میں کیفین پر مبنی کافی کے استعمال سے 30 سال بعد صحت مند بڑھاپے کا امکان نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔تحقیق کے مطابق یہ اثر کیفین والی کافی میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے، مگر چائے یا بغیر کیفین والی کافی اور سافٹ ڈرنکس وغیرہ میں نظر نہیں آتا۔

محققین نے بتایا کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ کافی صحت کو مستحکم رکھنے کے لیے بہترین مشروب ہے۔اس سے قبل بھی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا جاچکا ہے کہ کافی کے استعمال سے صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور مختلف امراض کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ تحقیق کسی حد تک محدود ہے کیونکہ اس میں کافی سے مرتب ہونے والے مثبت اثرات کی اصل وجہ کو سامنے نہیں لایا گیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ ایک ممکنہ وجہ یہ ہے کہ کافی پینے کے استعمال سے دائمی امراض جیسے ذیابیطس ٹائپ 2 اور امراض قلب کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔محققین کے مطابق ضروری نہیں کہ اگر آپ کافی نہیں پیتے تو اس کا استعمال شروع کر دیں تاہم اگر آپ اس گرم مشروب سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو روزانہ کی بنیاد پر مقدار میں کمی لانے کی ضرورت نہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے