سوشل میڈیا پر بیان بازی ویزے میں مشکلات پیدا کرسکتی ہے: یو اے ای قونصل جنرل کا پاکستانیوں کو پیغام

کراچی میں تعینات متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل ڈاکٹر بخیت عتیق الرومیتی نے کہا ہے کہ پاکستانیوں کے لیے ہمارے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، کچھ شکایات آئی ہیں جس سے متعلق آگاہی دے رہے ہیں تاکہ یو اے ای آنے والے شہریوں کو کسی قسم کی تکلیف اور پریشانی نہ ہو۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل بخیت عتیق الرومیتی نے کہا کہ یو اے ای میں 60 کی دہائی میں بہت سارے پاکستانی رہتے تھے، پاکستان اور یو اے ای کے ہمیشہ بہت اچھے تعلقات رہے ہیں، پاکستانیوں کے لیے یو اے ای کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں۔
اپنی اردو کے حوالے سے بخیت عتیق الرومیتی نے بتایا کہ لاہور کی کچھ فیملیز سے دوستی تھی ان سے اردو بولنا سیکھی۔
یو اے ای میں پاکستانیوں کو ویزے کے حصول میں مشکلات کے حوالے سے قونصلر جنرل بخیت عتیق الرومیتی کا کہنا تھا یو اے ای میں مختلف ملکوں سے لوگ آتے ہیں، یو اے ای میں مختلف ممالک کے لوگ اپنے ملکوں کی نمائندگی کرتے ہیں، کچھ شکایات آئی ہیں جس سے متعلق آگاہی دے رہے ہیں تاکہ یو اے ای میں لوگوں کو تکلیف نہ ہو، یاد رکھیں سوشل میڈیا پر آپ جو لکھتے یا اپ لوڈ کرتے ہیں وہ جمع ہوتا رہتا ہے، آپ کا سوشل میڈیا بیان ویزے کے حصول میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
بخیت عتیق الرومیتی نے کہا کہ جب کوئی پاکستانی قومی لباس میں میرے دفتر آتا ہے تو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے، پاکستانی شہری یو اے ای جائیں کام کریں، اپنی زندگی انجوائے کریں۔ ڈیڑھ سال میں 70 ہزار پاکستانیوں کو ورک ویزا جاری ہوا، اگر سیاحتی اور دیگر ویزوں کی بات کریں تو یہ تعداد لاکھوں میں چلی جاتی ہے۔پا کستانی بزنس کمیونٹی کو سہولیات دے رہے ہیں، یو اے ای میں کنسٹرکشن انڈسٹری میں پاکستانی بہتر کام کر رہے ہیں، پاکستانیوں کے لیے ویزا سروس اور دستاویزات کی تصدیق کیلئے سہولیات پیدا کر رہے ہیں۔
قونصل جنرل یو اے اینے کہا کہ پاکستانی نوجوان آئی ٹی سیکٹر بالخصوص اے آئی کے شعبے میں توجہ دیں کیونکہ یو اے ای میں اس حوالے سے کافی مواقع ہیں، اس کے علاوہ یواے ای میں بہت سے پاکستانی ڈاکٹرز ہیں جن کے پاسپورٹ دیگر ممالک کے ہیں، پاکستانی نوجوان طب کے شعبے میں توجہ دیں، یواے ای میں ڈاکٹرز کے لیے کافی مواقع ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے