اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف کانفلکٹ ریزولوشن کا سیمینار "میڈیا کے عالمی بیانیوں میں کردار”پرنقطہ نظر

اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف کانفلکٹ ریزولوشن (IICR) نے ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا جس کا عنوان تھا "میڈیا کے اثرات کی تفہیم، معلومات کی تشریح اور معاشرے پر عالمی نقطہ نظر”۔ اس تاریخی ایونٹ میں ماہرین تعلیم، میڈیا اور عوامی پالیسی کے ماہرین کو اکٹھا کیا گیا تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ میڈیا کس طرح معاشرتی تصورات اور سیاسی منظرناموں کو تشکیل دیتا ہے۔

سیمینار کا مقصد میڈیا کے کردار کو اجاگر کرنا تھا، خصوصاً بیانیے تشکیل دینے، غلط معلومات کے خاتمے، اور ثقافتی تفہیم کے فروغ میں اس کی اہمیت کو سمجھنا۔ اس میں میڈیا خواندگی کو فروغ دینے، تنقیدی سوچ کی حوصلہ افزائی اور نوجوانوں کو ذمہ دارانہ ر میڈیا استعمال کرنے کی ترغیب دینے پر زور دیا گیا۔

محترمہ صباح اسلم (ایگزیکٹو ڈائریکٹر IICR) نے اپنے افتتاحی خطاب میں میڈیا، عوامی تصورات اور معاشرتی نتائج کے درمیان تعلق پر بات کی اور کہا کہ میڈیا کا کردار صرف معلومات کی فراہمی تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ پورے معاشرتی تانے بانے کو متاثر کرتا ہے

سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے ای یو ڈس انفولیب کے کردار کو اجاگر کیا، جس نے بھارت کی پروپیگنڈا مہم کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے مغربی میڈیا کی طاقتور اثرات کو تاریخی واقعات جیسے 1953 کے ایرانی انقلاب اور عراق جنگ سے جوڑا۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر تجارت سے کینیا کے ہائی کمشنر کی ملاقات، تجارتی تعلقات مضبوط کرنے پر اتفاق

مرتضیٰ سولنگی، ایک تجربہ کار صحافی اور سابق وفاقی وزیر، نے صحافت کے بنیادی اصولوں پر گفتگو کی اور کہا کہ عوام کے جاننے کا حق ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ انہوں نے میڈیا کی آزادی کو درپیش چیلنجز پر بات کی، خاص طور پر کارپوریٹ اثرات اور مارکیٹ قوتوں کے حوالے سےبات کی ۔

فخر کاکاخیل، تحقیقاتی صحافی، نے پاکستان کے خلاف مغربی حمایت یافتہ غلط معلومات کی نشاندہی کی، خاص طور پر سی پیک کے حوالے سے۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈیجیٹل دور میں سنسر شپ اور غلط معلومات سے نمٹنے کے لیے بہتر میکانزم کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر فرقان راؤ نے میڈیا میں سیاسی نفرت انگیز تقریر کے خطرات کو اجاگر کیا، جو معاشرتی تقسیم کو مزید بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے کثیر شعبہ جاتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔

ایئر مارشل (ریٹائرڈ) فرحت حسین نے بھارتی میڈیا کے اثرات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ بھارت کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے کے لیے میڈیا کو طاقتور بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تنقیدی سوچ کو فروغ دینے پر زور دیا تاکہ عوام پروپیگنڈے اور حقیقت میں فرق کر سکیں۔

ڈاکٹر نذیر حسین نے اختتامی کلمات میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار پر بات کی اور کہا کہ مرکزی دھارے کے میڈیا کی محدود معلومات کی وجہ سے سوشل میڈیا میں زیادہ توجہ حاصل ہو رہی ہے۔

اس سیمینار نے میڈیا کے اثرات اور اس کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی اثرات کو سمجھنے میں ایک اہم قدم اٹھایا۔ اس نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا صرف معلومات کی فراہمی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک طاقتور آلہ ہے جو عوامی رائے، حکومتی پالیسی اور عالمی سطح پر تعلقات کو تشکیل دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، غلط معلومات اور پروپیگنڈے کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر متفقہ اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

 

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے