تباہی کی داستان

وزیراعظم صاحب ہم اپنے حلقوں میں کیسے جائیں لوگ ترقیاتی سکیموں کا پوچھتے ہیں۔ گرمیوں میں بجلی نہیں ملتی اور سردیوں میں گیس کا مسئلہ ہوتا ہے۔بجلی کے بلوں نے عوام کی کمرتو ڑ دی ہے۔گھریلو صارفین، صنتکاراور کمرشل صارفین سبھی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ بتایا جائے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کیوں مہنگی ہوتی ہے؟اگر یہی حالات رہے تو وہ دن دو ر نہیں کہ ہمارا حلقوں میں جانا مشکل ہو جائے گا۔ہم عوام کوآخر کیا جواب دیں۔اعلی سطحی اجلاس کے دوران ں وزراء بجلی کی قیمتوں پر پھٹ پڑے۔ وزراء کے سوالات میں چھپے خوف اور بے یقینی نے ہال میں سناٹا پیدا کردیا۔وزیراعظم شہباز شریف وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری کی جانب متوجہ ہوئے مگر انکے پاس سوائے طفل تسلیوں اور اعداد کے گورکھ دھندے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ تمام تردعووں اور پیشگی تیاری کے باوجود یہ صورتحال آخر کیوں پیدا ہوئی؟ وہ سوالات جو عوام‘میڈیا اور اپوزیشن اُٹھارہی تھی وہ سوالات اور اعتراضات آخر کار پارٹی رہنماوں کو کیوں اُٹھانا پڑے؟
قارئین کرام!کسی بھی ملک میں توانائی کا شعبہ انتہائی حساس اور ملکی خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔مہنگائی اور خوشحال کی بنیاد یہی شعبہ ڈالتا ہے مگر بدقسمتی کیساتھ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران بدانتظامی اور ایڈہاک ازم نے توانائی کے شعبے کو بری طرح متاثر کیا جس کے باعث آج اپوزیشن ہی نہیں بلکہ حکومتی وزراء سراپا احتجاج اور حیرانگی کے سمندر میں ڈوبے ہوئے نظر آرہے ہیں۔وزارت توانائی کی غلط حکمت عملی اور آئی پی پیز کی ہٹ دھرمی کے باعث ملک میں ایک اور بحران پیدا ہونے اور زرمبادلہ کے ذخائر پرمزید دباؤبڑھنے کے سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ گذشتہ پانچ سال سے خاکسار مسلسل حکمرانوں اور افسرشاہی تک یہ بات پہنچانے کی کوشش کررہا تھا کہ توانائی کا شعبہ پاکستان کی سلامتی کیلئے ایک سنگین مسئلہ بننے جارہا ہے۔ پاکستان کپیسٹی ٹریپ میں آچکا ہے۔ خدارا ٓئی پی پیزکیساتھ بیٹھ کر بات چیت کیجئے۔ نااہلی، بدانتظامی اور بدعنوانی کا راستہ روکئے ورنہ گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین آپکے خلاف سراپا احتجاج ہونگے مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ آج بالاخر پاکستان کے صنعتکاروں کی احتجاج کا علم بلند کردیا ہے۔ ہر کوئی سراپا احتجاج ہے کہ 27روپے کایونٹ 60روپے تک کیوں پہنچ جاتا ہے۔ اڑھتالیس فیصد آئی پی پیز کن چالیس خاندانوں پر مشتمل ہے؟۔ایک سال میں 2ہزار265ارب روپے کس کس کا بینک اکاونٹ بھریں گے؟
مالکان میں تو پاکستان کے تگڑے کاروباری خاندان ہیں جس میں میاں منشا،جہانگیر ترین،قطر میں مقیم سیف الرحمن،شیرازی گروپ،حسین داود اورزرداری فیملی کے انتہائی قریبی اومنی گروپ پاورپلانٹس کے مالکان میں شامل ہیں۔ محمد علی ٹبہ،سابق مشیر توانائی ندیم بابر اور عارف حبیب گروپ پاورپلانٹس کے مالکان میں شامل ہیں۔ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے سیف برادران،حبیب اللہ خان اورشوگرملزکے مالکان بھی پاور پلانٹس سے مالکان میں شامل ہیں۔سرکاری دستاویز کے مطابق مختلف فیول پر بجلی پیدا کرنے پلانٹس مالکان ایک سال میں 2ہزار265ارب روپے وصول کرینگے۔غریب عوام کو سب سے بھاری بوجھ درآمدی کول کے پاورپلانٹس کا اٹھانا پڑے گا۔آئی پی پیز کی کیپسٹی پیمنٹس صارفین کیلئے درد سر بن چکی ہے۔دوسری جانب سے ان پاور پلانٹس سے بجلی کے نرخ سمجھ سے بالاتر ہیں۔درآمدی کول پر فیول لاگت 16روپے جبکہ کپسیٹی پے منٹ 61روپے فی یونٹ وصول ہوگی۔درآمدی کول پر77روپے 66پیسے فی یونٹ پاکستان کی مہنگی ترین بجلی پیدا ہوگی۔درآمدی کول پلانٹس کے مالکان ایک سال میں 507ارب روپے وصول کرینگے۔تھرکول پر فیول لاگت 14.80روپے جبکہ کپیسٹی پے منٹ 16.14روپے وصول ہوگی۔فرنس آئل پر فیول لاگت 35.55روپے جبکہ کپیسٹی پے منٹ 26روپے وصول ہوگی۔فرنس آئل پر 63.57روپے فی یونٹ پاکستان میں دوسرے نمبر پر مہنگی ترین بجلی پیدا ہوگی۔سولر پر 37روپے 18پیسے جبکہ ونڈ سے 36روپے93پیسے فی یونٹ بجلی پیدا ہوگی۔آرایل این جی پر فیول لاگت 25.35روپے جبکہ کپیسٹی پے منٹ 7.54روپے فی یونٹ ہوگی۔نیوکلئیرپر فیول لاگت 1.84روپے جبکہ کپیسٹی پے منٹ 18.57روپے فی یونٹ ہوگی۔پن بجلی پر فیول لاگت صفر جبکہ کپیسٹی پے منٹ 10.25روپے فی یونٹ ہوگی۔گیس پر فیول لاگت 10.65روپے جبکہ کپیسٹی پے منٹ 5.33روپے فی یونٹ ہوگی۔شوگرملز کے پلانٹس پر فیول لاگت 11.88روپے جبکہ کپیسٹی پے منٹ 4.84روپے فی یونٹ ہوگی۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے بجلی چوری روکنے اور وصولیوں کیلئے اربوں روپے مراعات دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران،ایف آئی اے،پولیس اور ضلعی انتظامیہ کیلئے انوکھا پیکج تیارکی جس کے تحت بجلی چوری روکنے میں ناکام تقسیم کار کمپنیوں کے افسران اور عملے کو کروڑوں روپے ملیں گے۔تقسیم کار کمپنیوں کے افسران جو اپنی سات نسلیں سنوارنے میں دن رات مگن ہیں مگر بجلی چوری روکنے اور وصولیوں میں مکمل ناکام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیم کار کمپنیوں نے 1700 ارب روپے مختلف نادہندگان سے وصول کرنے ہیں۔ اب انوکھے مراعاتی وانعامی پیکج کے تحت وصولی کرنے والوں کو پانچ سے دس فیصد رقم دینے کی سفارش کی گئی۔
مگر وفاقی کابینہ نے بجلی چوروں اور نادہندگان سے وصولی پرانعامی رقم مزید بڑھا نے کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت نادہندگان سے وصولی پرانعامی رقم 5سے بڑھا کر 30فیصد کردی گئی ہے جس سے ڈسکو عملہ،سول انتظامیہ،پولیس اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے وارے نیارے کردئیے گئے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں کہ جو افسران بھاری تنخواہیں، مراعات، بنگلے، مفت پٹرول، بجلی اورگاڑیاں لینے کے باوجود بجلی چوری روکنے اور وصولیوں میں ناکام ہوئے ہیں انکے خلاف توسخت کاروائی ہونی چاہئے تھی مگر اب انہی افسران میں انعامی رقم کے نام پر کروڑوں روپے بانٹیں جائیں گے جبکہ غریب عوام کا بجلی کے بلوں کے نام پر خون چوسنے کا عمل بدستورجاری رہے گا۔
اب خادم پاکستان اور انکی ٹیم کو اس تلخ حقیقت کو سمجھ لینا چاہئے جس کی نشاندہی کرنے پر حکومت میڈیا سے اکثرخائف ہوجاتی ہے۔ اگرچہ پُلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ چکا مگر اب بھی کچھ عقل کو ہاتھ مار لیں توکم ازکم حلقوں میں عوام کو منہ دکھانے کے قابل رہ جائیں گے ورنہ شعبہ توانائی میں بدانتظامی اور بدعنوانی کی دلدل میں صرف عوام نہیں بلکہ حکمران بھی دھنس جائیں گے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے