کھونٹیوں سے بندھے ، دیواروں میں چنے لوگ ؟؟

یہ توآپ علماء پر طعن کررہے ہیں اور یہ گستاخی کے زمرے میں آتا ہے۔ میں یہ واضح کردوں کہ میں ان پاکیزہ شخصیات اور اداروں کی بات نہیں کررہا جن کے دم قدم سے ہم صراطِ مستقیم پر گامزن ہیں۔
”لگتا ہے آپ مذہبی جماعتوں کے خلاف ہونے والے اس منفی پراپیگنڈہ سے متاثر ہیں جو باقاعدہ منظم سازش کے ساتھ کیا جارہا ہے ، سچ پوچھیں تو ہمارے معاشرے میں خیر و برکت کی رہی سہی حیثیت انہی کے دم قدم سے ہے! خدانخواستہ یہ جماعتیں نہ ہوتیں تو نامعلوم ہم لامذہبیت کے کس کنویں میں گر چکے ہوتے!”
”ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو اور خدا کرے یہ خواب سچا ہو۔ مگرذرا خوش عقیدگی کی عینک اتار کر دیکھیں تو حقیقت کچھ اور معلوم ہوتی ہے۔ یہ امت روایات میں کھو گئی، حقیقت خرافات میں کھو گئی! ذرا ذراسی بات پر کفر کے فتووں کی پٹاریاں کھل جاتی ہیں ،ہر گروہ دوسرے ہرگروہ کو کافر سمجھتا ہے تو پھر مسلمان کون ہے؟ ہر جماعت دوسری جماعت کا حلیہ بگاڑ کر اپنا چہرہ چمکانا چاہتی ہے دوسروں کی شناخت ختم کردینے میں ہی اسے اپنا تشخص ابھرتا دکھائی دیتا ہے، دوسروں کی تحقیر کر کے اپنی عزت افزائی کے خواب دیکھتی ہے!”
”اختلاف رائے رکھنا تو کوئی بری بات نہیں خاص طور پر ایسے معاملات میں جن میں اس کی گنجائش بھی ہو اور اجازت بھی۔ خلوص نیت کے ساتھ درست بات کہنی چاہئے خواہ دوسروں کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔ ہم اس لئے حق کو چھپاتے پھریں کہ کہیں اس کے اظہار سے دشمنوں کو فائدہ نہ پہنچ جائے یہ کیسی حکمت ہے؟”
”اختلاف رائے اور جنگ میں فرق ہوتا ہے۔ جب اختلاف رائے تصادم کا روپ اختیار کرلے تو فتنہ بن جاتا ہے ۔خلوص نیت کے ساتھ صحیح بات کہنی چاہئے مگر سلیقے اور طریقے کے ساتھ ، حکمت اور بصیرت کے ساتھ! دوسروں کے وجود کے ہی درپے ہوجانا کہاں کا خلوص نیت ہے۔ نفرتوں کی دیواریں کھڑی کرنا کہاں کی حق شناسی اور حق دوستی ہے ۔ ہوئے تم دوست جس کے ، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟ میری سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ یہ ان کا تجاہل عارفانہ ہے یا تعارف جاہلانہ! ان کے حماقت ہے یا سادگی وعاقبت نااندیشی! مذہبی جنونیت ہے یا سیاسی پاگل پن! عقل کے ساتھ دشمنی ہے یا دین کے ساتھ!!”
” یہ تو وہی موقف ہے جو ایک عرصہ تک بائیں بازو کے ساتھ تعلق رکھنے والے مذہب بیزار قسم کے لوگ پیش کرتے رہے ہیں! حالانکہ مذہبی جماعتیں اتحاد و اتفاق پیدا کرتی ہیں اور ہر جماعت کے منشور میں فرقہ پرستی کا خاتمہ باقاعدہ ایک جزو کے طور پر شامل ہے۔ کسی کے خلوص کو اس نظر سے تو نہیں دیکھنا چاہئے!”
”برصغیر میں اسلام کئی قسم کے لوگوں کے ”خلوص ”اور ”احسان” سے ”متاثر”ہوتا رہا ہے۔ پہلے تو یہ ملوکیت کے خلوص کے زیر اثر وادی سندھ میں پہنچا پھر یہاں پر کئی بادشاہوں کی ”بادشاہیاں” اس پر اپنا اثر چھوڑتی رہیں اور ہندو تہذیب کا ”تڑکا”لگانے کی کوشش ہوتی رہی۔ پھر یہ عربی زبان سے نابلد اور قرآن وحدیث سے دور رہنے والے نا م نہاد مفکرین کی تشریحات کا تختۂ مشق بنارہا ۔ رہی سہی کسر ان نام نہاد علماء اور مذہبی جماعتوں کے خلوص اور احسان نے پوری کردی جو مذہب کو اپنے اپنے مقاصد کے تحت استعمال میں لانے کی کوششوں میں ”سرخ رو”ہوتے رہتے ہیں ۔ ”
”یہ توآپ علما کے شاندار ماضی پر طعن کررہے ہیں اور یہ گستاخی کے زمرے میں آتا ہے۔ مذہبی طبقہ تو ہمیشہ تعمیر میں مصروف رہا ہے۔ آپ اپنی تاریخ کی نفی کررہے ہیں اور اپنے جغرافیے کو منہدم کرنے کے درپے ہیں۔ ہمارا مستقبل بھی ، ماضی کی طرح مذہب کے ساتھ وابستہ رہنے سے ہی تابناک ہوسکتا ہے!”
” واضح رہے کہ میں ان پاکیزہ شخصیات کی بات نہیں کررہا جنہوں نے واقعتا اسلام کو ایک زندہ حقیقت کے طور پر پیش کیا اور اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ روشنی کے مطابق لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت پر گامزن کرتے رہے۔ میں یہاں ذکر کررہا ہوں اس ”مذہبی طبقے” کا جو ہمارے معاشرے میں اسلام کا نمائندہ ہے۔ آپ کو معلوم ہے ہمارے عام لوگوں کے ذہنوں میں مذہب چند رسومات کا نام بن کر رہ گیا ہے یا پھر جزوی اختلافات کا مرکب۔ مسجد کاسپیکر چندہ اکٹھا کرنے کاذریعہ ہے۔ بالعموم گاؤں میں تو امام کی حیثیت ایک ”کمی” کی بن کے رہ گئی ہے ۔”
” خیر تصوف کے مراکز بھی موجود ہیں۔جو خیر کی خیرات بانٹتے رہتے ہیں۔”
” جی جی ان سلسلوں میں مذہب کا ایک طبقہ قدیم صوفیاکے سجادہ نشینوں کا ہے۔ میں ان متقی ہستیوں کی بات نہیں کررہا جنہوں نے اسلام کے گلشن کو اپنے خون پسینے سے آبادکیا اور آج بھی اسوہ حسنہ کے دیے جلائے ہوئے ہیں بلکہ میری مراد وہ پیشہ ور ہیں جنہوں نے کسی پاکیزہ انسانوں کی قبروں کو دوکانداری کا ذریعہ بنارکھا ہے اور کچھ مذہبی ریاکاریوں کی آڑ میں لوگوں کو اسلام سے کوسوں دور لے جا رہے ہیں۔”
” چلو جی یہ بھی فارغ؟۔۔۔کسی کو تو چھوڑ دیں ، آپ!”
” ہاں جی سنیں تو۔۔۔پھرتیسرا نمائندہ ہمارے بعض دینی مدرسوں سے فارغ ہونے والے جھگڑالو علامہ ہیں جو اپنے اپنے ”سکہ بند”عقائد کی ”روشنی” عوام الناس میں پھیلا کر اسلام پر احسان کررہے ہیں۔ جن کا دینی علم چند آیات قرآنی، چند احادیث نبویﷺ اور چند تاریخی واقعات پرمبنی اور محدود ہوتا ہے، جو انکے اپنے مسلک کی تائید سے متعلق ہوں۔ ہر مکتب فکر کے اپنے اپنے مدرسے ہیں۔ ہر مدرسے کا اپنامسلک ، اپنا رنگ، اپنا اسلوب جنگ۔۔۔اپنا ہاتھ اور اپنا گریبان! ۔۔۔اسی طرح ہر مذہبی سیاسی جماعت کا علیحدہ علیحدہ پلیٹ فارم ، پلیٹ بھی علیحدہ اور فارم بھی۔ اپنا علیحدہ بیج اور نشان، پرچم اور سیاسی نظریہ الگ الگ ۔۔۔ نوے فیصد عوام تو پہلے ہی اسلام سے دور ہیں اور جو دس فیصد مذہب کے قریب ہیں ان میں سے ہر ایک فیصد کسی ایک شخصیت یا جماعت کے ساتھ بندھاہوا ہے ۔ ہم کیسے لوگ ہیں؛ کھونٹیوں سے بندھے ہوئے ، دیواروں میں چنے ہوئے۔”

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے