انسان کا اپنےمستقبل کے ساتھ ظالمانہ سلوک

امیروں کی دنیا میں دور جدید کے فلسفہ تعلیم اور فلسفہ زندگی نے انسان کو آزادی، مساوات ، جمہوریت اور بنیادی حقوق کے جو تصورات دیئے ہیں، ان کا عملی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ انسان بس اپنی خواہشات کی پیروی اور غلامی میں آگیا ہے۔ خودغرضی کی نفسیات نے انسان کے اخلاقی وجود اور اندر کے ہمدردو غمگسار انسان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
لہٰذا، ذاتی خوشی اور سکون کی خاطر ، اکثر خواتین و حضرات ، مستقبل کے انسانوں کی زندگی جنم دینے یا اس کو سہولت کاری مہیا کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں ۔ غریب معاشروں اسی طرح کے رویے مجبوریوں اور محرومیوں کی بنیاد پر فروغ پا رہے ہیں۔
جن معاشروں میں خود غرضی عام ہو جائے وہاں فرائض سے غفلت لوگوں کی عادت بن جاتی ہے۔ جہاں فرائض سے غفلت عام ہوجائے وہاں انسان بنیادی انسانی حقوق کی بھیک مانگنے لگتا ہے جو آخر کار حقوق وفرائض کے عدم توازن پر منتج ہوتا ہے اور یہی حالت اس وقت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بالخصوص اور ترقی پذیر ممالک میں بالعموم پائی جاتی ہے۔
لہٰذا انسان کی آئندہ نسلیں عدم توجہی اور عدم خیر خواہی کے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہیں۔ انسان نے جب سے فطری قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی آسمانی ہدایت کے کافی و شافی ہونے سے انکار کیا ہے اور اپنے آپ کو حق و باطل ، نیکی و بدی اورخیر و شر کا معیار قراردے لیا ہے ،اس وقت سے وہ عجیب مخمصے کا شکار ہوچکا ہے۔ خاص طور سے جب سے اس نے اپنی آئندہ نسلوں کی تربیت سے پہلو تہی کی ہے اور مرد و عورت کے تعلق کو جنسی لذت تک محدود کیا ہے اس وقت سے اس کا مستقبل مخدوش اور تشویشناک ہوچکا ہے۔
دنیا کی آبادی گذشتہ سال آٹھ (8) ارب ہو چکی ہے ۔ عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق شرح اموات سے، شرح پیدائش کم از کم دو گنا زیادہ ہے، اگر دو افراد ہر سیکنڈ میں فوت ہو جاتے ہیں تو چار نئے پیدا ہو جاتے ہیں۔ گذشتہ دو سو سال میں ، انسانی آبادی، اٹھارہویں صدی کی آبادی ( ایک ارب) سے سات گنا بڑھ گئی ہے۔ اس آبادی میں، تیسرا حصہ یعنی تیس فی صد اٹھارہ برس سے کم عمر کے بچے ہیں۔ تیس کروڑ سے زائد بچے دنیا میں ، انتہائی غربت کی زندگی گزارتے ہیں۔
دیگر مصائب کے ساتھ ساتھ اس وقت دنیا میں بچوں کا استحصال ایک گھمبیرصورت حال اختیارکرگیا ہے۔ جبری مشقت تو ایک طرف مختلف گھناؤنے مقاصد کے لئے بچوں کی خرید و فروخت اور جنسی تشدد جیسے قبیح کاروبار عام ہورہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک اور جمہوری حقوق کی بزعم خود دعویدار قومیں اس بدنام زمانہ تجارت میں باقاعدہ کردار اداکررہی ہیں جبکہ غریب اور ترقی پذیر ممالک میں یہ لعنت شروع میں مجبوری اور اب عادت کی شکل اختیارکرچکی ہے۔
تاہم پراپیگنڈہ صرف اور صرف غریب ممالک کے بارے میں کیا جاتا ہے جن کا معاشی استیصال دراصل سرمایہ دارانہ نظام کے پجاری ممالک نے خود کیا ہے اور ترقی پذیر قوموں کو معاشی دیوالیہ پن کے ساتھ ساتھ اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے اخلاقی زوال کی طرف لے جانے میں بھی ان کا بنیادی کردار ہے۔بچوں کا یہ استحصال انفرادی و نجی سطح پر ہو یا ریاستی، ملکی و قومی اداروں کی سطح پر، مستقبل کی انسانیت کے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ آنے والی نسلیں معاشروں کے خلاف نفرت کا زہر اپنی رگوں میں لے کر پل رہی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانیت کا مستقبل کس اخلاقی آشوب سے وابستہ ہوچکا ہے۔
ایک طرف تو والدین اپنے فطری فرائض منصبی اداکرنے سے کنی کترانے کی روش پر چل رہے ہیں تو دوسری طرف ریاستیں اپنے بنیادی فرائض ادا کرنے اور بچوں کے حقوق کی نگہبانی کرنے میں ناکام ہیں۔ سماجی ناانصافیوں ، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور غیر مفید ریاستی پالیسیوں کی وجہ سے کمسن بچوں کو اپنی نشوو نما کے لئے لازمی ضروریات زندگی، ماحول اور ذرائع و وسائل میسر نہیں آتے۔ جس کی وجہ سے وہ محنت و مشقت اور بعض اوقات ذلت آمیز زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔۔۔جس معاشرے میں انسان کے مقام اور عزت کا تعین دولت یا اس کی سیاسی حیثیت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے وہاں تو غریب کے بچے کی نہ زندگی ہے نہ موت……نامعلوم کیا چیز ہے جسے وہ عمر کہہ کے گزاردیتا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے