انسانی شناخت کے المیے

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں یک ولدیتی خاندان کے تحت زیر پرورش بچوں کی شرح امریکہ میں پچیس فیصد، برطانیہ میں بائیس، کینیڈا میں اکیس ، ناروے میں بیس، آسٹریلیا اور سویڈن میں انیس اور ڈنمارک میں اٹھارہ فیصد ہے۔ یہ معصوم بچے جو بڑے ہو کر ماحول کی پراگندگی کی وجہ سے بدکرداری کی طرف مائل ہوجاتے ہیں ، زندہ انسانیت کے لئے لمحہ فکریہ اور مہذب معاشروں کے لئے سراپا سوال ہیں۔
امریکہ، سویڈن اور برطانیہ میں بطور خاص اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بالعموم ،انسانوں کی یہ نسل نو اپنی شناخت کے المیے سے دوچار اور شفقت پدری سے محروم ہے۔ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ایسے بچے صحت کے اعتبار سے سکول میں اپنی تعلیمی کارکردگی کے حوالے سے اور معاشرے میں اپنے سماجی مقام کی تلاش میں، بے شمار نفسیاتی اور ذہنی الجھنوںکا شکار رہتے ہوئے اچھی کارکردگی کا مظاہر نہیں کرپاتے۔
بچے اپنے ماحول کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں۔سائنسی اور نفسیاتی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ بچوں پر والدین کے رویے ، والدین کے خیالات، ان کے آپس میں تعلقات ، محبت ، نفرت اور پسند و ناپسند کا اثر، بہت زیادہ ہوتا ہے۔ پھر روایتی اور تاریخی اعتبارات کے علاوہ، جسمانی اور روحانی پہلوؤں سے، بھی انسان فطرتاًوالد کے وجود اور س کے ساتھ کا، اتنا ہی خواہشمند اور طلبگار ہوتا ہے جتناکہ اپنی ماں کی گود اور محبت کا۔ لہٰذا بے باپ لڑکے، انسانیت کا وہ پہلو جو مردانگی سے وابستہ ہے، سے محروم رہتے ہیں۔
اس لحاظ سے ان کی سماجی شخصیت ادھوری اور بنجررہ جاتی ہے۔ اسی طرح وہ بیٹیاں جو والد سے ناشناسا رہتی ہیں ادھوری شخصیت کے سہارے، شعوری بلوغت اور تعلیم و تہذیب کا سفر کرتی ہیں۔ کیوں کہ ماں کا کردار شخصیت کی تعمیر میں آدھا ہوتا ہے۔ جب ماں اور باپ کی صورت میں، خاندان میں مرکزی نقطہ اشتراک اور اجتماعیت کا محور موجود نہ ہو تو بہن بھائی میں بھی تعلق اور رشتہ مضبوط و توانا اور محبت و عقیدت سے استوار نہیں ہو پاتا۔ مغر ب کی انسانیت نے اس کا متبادل، اپنائے گئے والد میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ باپ کے بغیر انسان کی زندگی میں جو خلا رہ جاتا ہے، اسے پورا کرنے کی یہ مصنوعی کوشش ہر فرد جانتا ہے کہ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔
ایک برطانوی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ، غربت ترک خاندان کا سبب نہیں بلکہ نتیجہ ہے۔ لہٰذا خاندان ٹوٹنے سے دواکائیاں معاشی جدوجہد میں شریک اور غربت کا شکار ہوجاتی ہیں بہ نسبت ایک خاندان کی اکائی کے۔بے باپ معاشرے ذہنی و نفسیاتی بیماریوں کا لقمہ بن جاتے ہیں۔ یہ صورتحال صرف امریکہ میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے سارے ترقی یافتہ ممالک اس سماجی کمزوری اور معاشی لاوارثی کا شکار ہورہے ہیں۔ برطانیہ میں کئی آبادیوں میں دوتہائی بچے والد کی شفقت پدری سے محروم ہیں بلکہ خود وجود پدری سے ناآشنا ہیں۔
ہدایت الہٰی سے محروم یا باغی ہوجانے والے انسانوں کا یہ المیہ ہے کہ خالق کائنات کے فطری قوانین کو، ظاہری اور وقتی مفادات اور لذات کی خاطر، بار بار توڑتے رہتے ہیں مگر جب اپنی فطری ضروریات کے ہاتھوں مجبورہوتے ہیں تو مصنوعی اور عارضی طریقوں سے اس کمی اور کجی کو دور کرنے کی سعی ناکام کرنے لگ جاتے ہیں۔ انسان کو یہ کب معلوم ہوگا کہ خالق ارض و سماکے عطا کردہ اصول ہی جسمانی و روحانی ضرورتوں کوپوراکرکے اطمینان و سکون سے نواز سکتے ہیں۔ عارضی اور جزوی مماثلت و مشابہت، دائمی اور مکمل ہم آہنگی پیدانہیں کرسکتی۔ ریت کے گھروندے بارشوں میں نہیں ٹھہراکرتے۔ پانی پر انگلیوں سے کشیدہ کاری ممکن نہیں!!!

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے