مقبوضہ کشمیر اور نئی کٹھ پتلی اسمبلی و حکومت

دس سال کی کاوشیں، پانچ سال کی پابندیاں اور نتیجہ نوے نشتوں میں سے محض انتیس نشستیں۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بے جی پی نے ان الیکشنز سے کیا حاصل کیا؟
دوسرا سوال :کیا نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی بننے والی کٹھ پتلی حکومت اپنے وعدے آرٹیکل تین سوستر کی واپسی یقینی بنا پائے گی ؟
یہ نئی حکومت لیفٹنٹ گورنر کو تفویض کردہ مالی انتظامی اختیارات واپس لے پائے گی؟۔
بی جےپی نے منصوبہ بندی کے تحت واٹر ٹیسٹ کرنے کے بعد اہم اختیارات لیفٹنٹ گورنر کو سپرد کردیے تھے کہ اگر مقبوضہ کشمیر میں کوئی اور پارٹی حکومت بنابھی لے تو وہ حکومت برائے نام ہو۔
ان انتخابات کے زیادہ ٹرن آوٹ سے بی جے پی نے دنیا میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ مقبوضہ علاقے کی اکثریت ہندوستان کے آئین کے ساتھ ہے تاہم زمینی حقائق اگرچہ مختلف ہیں لیکن کسی حد تک یہ تاثر دنیا میں پہنچادیا گیا ہے۔ اب نئی بننے والی حکومت جو یقینا ًنیشنل کانفرنس اور کانگریس کی مشترکہ حکومت ہوگی اسکے پاس اختیار سرے سے نہیں ہوگا، سیکیورٹی انکا دایرہ کار نہیں، مالی معاملات پہلے ہی گورنر کو تفویض ہوچکے ہیں، اور انتظامی معاملات میں بھی یہ حکومت بے اختیار ہوگی۔ تو پھر کشمیریوں کو اس سے کیا حاصل ہوگا؟
کشمیریوں نے اگرچہ ان انتخابات میں ایک حد تک حصہ لیا اس سوچ کیساتھ کہ جن کو ووٹ دے رہے ہیں وہ منتخب ہوکر کشمیریوں کی شناخت ہینتیس اے اور خصوصی حیثیت آرٹیکل تین سوستر واپس دلائیں گے ، ایساہونا بہت مشکل ہے کیونکہ قانون ساز کٹھ پتلی اسمبلی کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں جب تک بی جے پی نہ چاہے اور وہ چاہے گی بھی کیوں اور کس لیے ۔
میری ناقص رائے میں کشمیریوں کو ایک بار پھر ان انتخابات کے نتیجے میں دھوکہ دیا گیا نہ یہ حکومت معاش بحال کرسکتی ہے اور نہ کشمیریوں کو شناخت واپس دی سکتی ہے ،ہاں البتہ بی جے پی کے ہندو وزیراعلیٰ لانے کا خواب ضرور چکنا چور ہوا جس کا بدلہ وہ کشمیری قوم سے ضرورلے گی۔

 

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے