سعودی عرب اور عراق کی کمپنیوں نے بھارتی ریفائنر کو خام تیل کی فروخت روک دی

سعودی عرب اور عراق کی کمپنیوں نے بھارتی ریفائنر کو خام تیل کی فروخت روک دی ہے۔ آخری بار سومو کا باسرہ خام تیل 29 جولائی کو بھارتی بندرگاہ ودینار پر اتارا گیا، جبکہ سعودی عرب سے آخری شپ منٹ 18 جولائی کو پہنچی تھی۔

خبررساں  ایجنسی رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کی آئل کمپنی آرامکو اور عراق کی سرکاری تیل کمپنی سومو نے بھارتی ریفائنری کمپنی نایارا انرجی کو خام تیل کی فروخت بند کر دی ہے۔ یہ اقدام یورپی یونین کی جانب سے جولائی میں روسی حمایت یافتہ ریفائنر پر عائد پابندیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد نایارا انرجی نے اگست میں اپنی خام تیل کی تمام درآمدات روس پر منحصر کردیں۔ نایارا عام طور پر ہر ماہ عراق سے تقریباً 20 لاکھ بیرل اور سعودی عرب سے 10 لاکھ بیرل خام تیل حاصل کرتی تھی، تاہم اگست میں دونوں ممالک سے کوئی سپلائی موصول نہیں ہوئی۔

بھارتی اقدامات کے باعث نایارا اور سومو کے درمیان ادائیگیوں کے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ آخری بار سومو کا باسرہ خام تیل 29 جولائی کو بھارتی بندرگاہ ودینار پر اتارا گیا، جبکہ سعودی عرب سے آخری شپ منٹ 18 جولائی کو پہنچی تھی۔

نایارا کو اب روسی آئل کمپنی روزنیفٹ سے براہِ راست سپلائی مل رہی ہے۔ 4 لاکھ بیرل یومیہ صلاحیت رکھنے والی نایارا کی ودینار ریفائنری اس وقت صرف 70 سے 80 فیصد استعداد پر چل رہی ہے کیونکہ پابندیوں کے باعث مصنوعات فروخت کرنے اور ٹرانسپورٹیشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔

نایارا جو بھارت کی مجموعی ریفائننگ صلاحیت کا تقریباً 8 فیصد کنٹرول کرتی ہے، پابندیوں کے بعد اپنی مصنوعات کی شپنگ کے لیے ’ڈارک فلیٹ‘ نامی متبادل جہاز رانی پر انحصار کررہی ہے کیونکہ دیگر شپنگ کمپنیاں پیچھے ہٹ گئی ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے