نام نہاد بھارتی یوم جمہوریہ،کشمیری 26 جنوری کو یوم سیاہ منائیں گے
سری نگر:کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین عبدالصمد انقلابی نے کشمیری عوام سے کہا ہے اس دفعہ بھی نام نہاد بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر یوم سیاہ منایا جائے ، بھارت نے طاقت کے زور پر جموں وکشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے چنانچے بھارت کو جمہوری ملک کہنا جمہوریت کی توہین اور مذاق بھی ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ جمہوری ملک ہونے کا مطلب عالمی انسانی حقوق اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے قوانین کی پاسداری ہے، لیکن بھارت گزشتہ 77 برسوں سے ان اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انسانی حقوق کی ۔سنگین پامالیاں کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بھارت: مسلمانوں پر زمین تنگ ، نماز جنازہ پڑھنے پر متعدد گرفتاریاں
بھارت نے ایک آزاد اور خود مختار ریاست پر غیر قانونی قبضہ کیا، وہاں کے باشندوں کے بنیادی، دینی، اخلاقی، سماجی، مذہبی، اور سیاسی حقوق سلب کیے، اور ریاست جموں کشمیر کو غیر قانونی طور پر تقسیم کر دیا۔ سوا کروڑ جموں کشمیر کے لوگوں کی آزادی طاقت کے بل پر چھین لی گئی، لاکھوں آزادی کے متوالوں کو شہید کیا گیا، دس ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتاری کے بعد لاپتہ کر دیا گیا، ہزاروں خواتین کی عصمت دری ہوئی، ہزاروں لوگوں کو اپاہج کیا گیا اور ہزاروں بچوں کو نابینا بنایا گیا، ہزاروں جموں کشمیر کے لوگ بھارت کے مختلف جلیوں میں سالہا سال سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، جموں کشمیر کے حریت پسند لوگوں کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں، اور میڈیا پر قدغن لگا کر ان کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔
ایسے حالات میں بھارت کو جمہوری ملک کہنا جمہوریت کے اصولوں اور اقدار کی صریح تضحیک ہے۔چیئرمین نے کہا ہے کہ آر پار جموں کشمیر کے لوگ ہر سال 26 جنوری کو بھارت کے یومِ جمہوریہ کو یومِ سیاہ اور یومِ احتجاج کے طور پر مناتے ہیں تاکہ دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھایا جا سکے اور یہ واضح کیا جا سکے کہ جموں کشمیر کے لوگ بھارت سے مکمل آزادی برائے چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم عالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں، اقوامِ متحدہ، اور عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ جموں کشمیر میں جاری مظالم کا نوٹس لیا جائے، بھارت 77 سال سے جموں کشمیر کے لوگوں کی نسل کشی کر رہا ہے اور ایک منصوبہ بندی اور سازش کے تحت ریاست کے مسلم تشخص کو ختم کر کے اسے ہندو اکثریتی علاقہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔چیئرمین نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ جموں کشمیر کا پرامن حل نکالا جائے تاکہ برصغیر اور جنوبی ایشیا میں امن و امان اور سلامتی قائم ہو جائے، اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو یہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے، جموں کشمیر کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں ان کا طے شدہ حقِ خودارادیت دیا جائے اور بھارت اپنے وعدوں کو پورا کرے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں