کرکٹ کی بہتری، پی سی بی کو بالآخر ہوش آ ہی گیا

پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کی حالیہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی پہلی بار تھی اور نہ ہی گرین شرٹس پہلی بار کسی میگا ایونٹ کے پہلے راؤنڈ سے عبرتناک شکست کے بعد باہر ہوئی ہے، نہ تو پہلی بار قومی ٹیم نے کسی نوآموز ٹیم سے شکست کھائی ہے اور نہ ہی پہلی بار پاکستان کے کروڑوں کرکٹ شائقین کے دل ٹوٹے ہیں۔ نہ تو پہلی بار سکواڈ کے اعلان کے ساتھ ہی کرکٹ ماہرین کی بھنویں اٹھیں اور نہ ہی پہلی مرتبہ اچھے بھلے اور کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو چھوڑ کر یاری دوستی الیون بنائی گئی تھی لیکن دیر آید درست آید کے مصداق حیرت انگیز طور پر پہلی بار پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایسے سنجیدہ فیصلے لئے ہیں جن کی بلاشبہ تعریف کرنا بنتی ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ یہ سنجیدہ فیصلے آنے والے دنوں میں عملی اقدامات کے متقاضی ضرور ہونگے اور اس حقیقت میں بھی کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ اگر ان فیصلوں پر من و عن عمل کو یقینی بنایا گیا تو امید ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان قومی کرکٹ ٹیم ایک نئے انداز سے کامیابیوں کا سفر طے کرتی دکھائی دے گی۔ اس بات سے قطع نظر کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی چیئرمین شپ سمیت منیجمنٹ میں آئے روز کی تبدیلیاں ٹیم کی کارکردگی پر کس حد تک اثرانداز ہوتی رہی ہیں اگر کسی ایک چیئرمین کو دو سے تین سال ٹک کر کام کرنے دیا جائے تو بلاشبہ اچھی اور مثبت تبدیلیاں ٹیم اور کرکٹ دونوں کو بہتری کی راہ پر گامزن کر سکتی ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نے ایک اہم اجلاس میں کئی ایسے فیصلے کئے ہیں جن کی طویل عرصے سے شدید ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔

چیئرمین محسن نقوی کی زیرصدارت تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اجلاس میں کرکٹ سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد تاریخی فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں قومی ٹیم کے دونوں غیر ملکی کوچز وائٹ بال کے ہیڈ کوچ گیری کرسٹن اور ریڈ بال کوچ جیسن گلسپی سمیت ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ، اسسٹنٹ کوچ اظہر محمود، سلیکشن کمیٹی کے اراکین محمد یوسف، اسد شفیق اور بلال افضل، ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس سنٹرز ندیم خان اور ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ عبداللہ خرم نیازی موجود تھے۔ اجلاس کا سب سے اہم فیصلہ یہ رہا کہ دونوں غیرملکی کوچز گیری کرسٹن اور جیسن گلسپی کو سلیکشن کمیٹی کا حصہ بنا دیا گیا، یہ فیصلہ اس تناظر میں زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ دونوں غیرملکی کوچز کلی طور پر میرٹ پر فیصلہ کرتے ہوئے کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں کھلاڑیوں کی شمولیت کو یقینی بنائیں گے۔

جبکہ حالیہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے لئے سکواڈ کے انتخاب میں کارکردگی سے زیادہ پسند نا پسند اور دوستی یاری کو ملحوظ خاطر رکھا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ہر تین ماہ بعد کھلاڑیوں کا فٹنس ٹیسٹ اور کھلاڑیوں کے لئے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان دونوں فیصلوں پر سختی سے عملدرآمد کھلاڑیوں کی فٹنس کے علاوہ کارکردگی کو بھی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ قومی ٹیم کے سابق ٹیم ڈائریکٹر محمد حفیظ کی طرف سے ماضی قریب میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لئے فٹنس کے حوالے سے اتنی نرمی برتی گئی کہ کھلاڑی شاید فٹنس کا خیال رکھنا ہی بھول گئے جس کے نتائج ٹی 20 ورلڈ کپ میں واضح دکھائی دئے گئے۔ علاوہ ازیں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کا طریقہ کار بھی سلیکشن کمیٹی وضع کرے گی۔ کھلاڑیوں کے لئے اچھی خبر یہ رہی کہ سنٹرل کنٹریکٹ میں فی الحال کمی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کھلاڑیوں کو ملنے والا معاوضہ کم نہیں کیا جائے گا تاہم کنٹریکٹ کھلاڑیوں کی کارکردگی اور فٹنس کا جائزہ ہر سال لیا جاتا رہے گا ایسے میں فٹنس مسائل سے دوچار یا خراب کارکردگی کے حامل کھلاڑیوں کے لئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

انٹرنیشنل لیگز میں شرکت کے لئے این او سی کا حصول بھی ایک ٹیکنیکل طریقہ کار کے تحت کیا جا رہا ہے اور اس طریقہ کار پر پورا اترنے والے کھلاڑی ہی لیگز کے لئے این او سی حاصل کر سکیں گے۔ اچھی کارکردگی اور فٹنس کا انٹرنیشنل معیار ہی لیگز کے لئے این او سی دلوا سکے گا۔ ایک اہم فیصلہ ڈسپلن کے زمرے میں بھی کیا گیا ہے اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے واضح پیغام دیا ہے کہ ٹیم میں گروپنگ کرنے والے کھلاڑیوں کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ یہاں تک کہ انہوں نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑیوں کے لئے اپنی سفارش بھی نہ ماننے کی ہدایت کی ہے۔

ہائی پرفارمنس سنٹرز کو اپگریڈ کرنے سمیت ان کی کارکردگی بہتر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا جبکہ اسلام آباد اور پشاور میں بھی ہائی پرفارمنس سنٹرز بھی قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ قومی ٹیم کے ساتھ ساتھ پاکستان شاہینز اور انڈر19 ٹیموں کے لئے الگ الگ کوچز رکھنے سمیت تسلسل کے ساتھ ان کے لئے ٹورنامنٹس کرانے کا مکمل پروگرام مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ ویمنز کرکٹ ٹیم کو بہتر بنانے اور سنٹرل کنٹریکٹ پر نظرثانی کے لئے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ندیم خان کو خصوصی ٹاسک حوالے کیا گیا ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتری کے لئے محمد یوسف، اسد شفیق، عثمان واہلہ اور عثمان خان کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جو اس سسٹم کی بہتری، مضبوطی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے سفارشات تیار کریں گے۔ سکولز کرکٹ کے فروغ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ عبداللہ خرم نیازی سے جامع پلان طلب کر لیا گیا۔ پچز کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے فوری کام شروع کرنے کی بھی ہدایت کی گئی جبکہ اس حوالے سے ویسٹرن آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ٹونی ہیمنگ کو دو سال کے معاہدے پر نیا ہیڈ کیوریٹر مقرر کر دیا گیا ہے۔

ٹونی ہیمنگ اپنی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے بدھ کو لاہور پہنچیں گے اور ان کی فوری ذمہ داریوں میں سے ایک بنگلہ دیش اور انگلینڈ کے خلاف آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پانچ ٹیسٹ میچوں کے لیے پچز تیار کرنا ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف اگست ستمبر میں دو ٹیسٹ جبکہ انگلینڈ کے خلاف اکتوبر میں تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی۔ ہیمنگ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کی پچز کی تیاریوں کی بھی نگرانی کریں گے، واضح رہے کہ ہیمنگ تقریباً چار دہائیوں کے تجربے کے ساتھ ایک انتہائی قابل احترام کیوریٹر ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا کے مختلف مشہور گراؤنڈز بشمول میلبرن۔ پرتھ اور تسمانیہ کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں کام کیا ہے جہاں وہ دبئی میں 2007 سے 2017 تک آئی سی سی کے ہیڈ کیوریٹر رہے۔

آئی سی سی کے ساتھ کام کے دوران ہیمنگ نے دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں پچ کی تیاری کی بھی نگرانی کی تھی۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا تھا کہ نئے ٹیلنٹ پر سرمایہ کاری سے بہترین کھلاڑی سامنے آئیں گے، نئے کھلاڑیوں پر بھرپور سرمایہ کاری کریں گے۔ گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی مکمل بااختیار ہیں، انہیں فری ہینڈ دیا ہے۔ امید ہے کہ دونوں بہترین نتائج دیں گے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ اگر ان اہم فیصلوں پر من و عن عملدرآمد کیا گیا تو پاکستان کرکٹ ٹیم کو نئی کامیابیوں سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے