وزیراعظم انوار الحق کی چھ روز میں تنویر الیاس سے دوسری ملاقات

وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس سے چھ روز کے دوران دوسری مرتبہ ملاقات کی ہے جس کے بعد آزاد کشمیر کی سیاست میں مختلف چہ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔

جمعہ کے روز وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق اپنی کابینہ کے اراکین کے ہمراہ سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کے گھر پہنچے ۔ وزیر تعلیم دیوان علی خان چغتائی ، وزیر صحت ڈاکٹر نثار انصر ابدالی ، وزیر اطلاعات پیر مظہر سعید شاہ ، مشیر حکومت سردار احمد صغیر وزیراعظم کے ہمراہ تھے جبکہ ملاقات میں ممبر اسمبلی چوہدری علی شان سونی ، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید نے بھی شرکت کی ۔ علی شان سونی اور سردار احمد صغیر دونوں رہنمائوں کی حالیہ دنوں میں ہونے والی پہلی ملاقات میں بھی شریک تھے ۔

وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم انوار الحق اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی ملاقات میں سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ دونوں رہنماؤں نے مقبوضہ کشمیر میں ڈھونگ انتخابات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنمائوں کی ملاقات سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے جہاں صحافیوں کی طرف سے ردعمل سامنے آرہاہے۔مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی امیرالدین مغل نے ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے دونوں رہنمائوں کو ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف دیئے گئے بیانات یاد کرائے۔

اس سے قبل جی ٹی وی نیوز کے اینکر خواجہ متین کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران وزیراعظم چودھری انوار الحق نے اپنے دور حکومت کی کامیابیوں اور سیاسی معاملات پر کھل کر باتیں کی تھیں۔

وزیراعظم کا آزاد کشمیر کی اتحادی حکومت سے متعلق کہنا تھا کہ یہ ایک غیر فطری اتحاد ہے بہت سارے دوستوں کی خواہش ہے وہ میری جگہ آکر بیٹھ جائیں،ہمارے چند دوستوں کا مختصر سا منشور ہے مجھے گرانا اور خود بیٹھنا، اس میں کارکردگی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاسی کارکنوں کو اطمینان آنکھیں بند ہونے کے بعد ہی آتاہے

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے