رٹھوعہ ہریام پل آزاد کشمیر کا گیم چینجر منصوبہ : 21 سال بعدبڑی پیشرفت

آزاد کشمیر کے انتہائی اہم اور ترقی یافتہ شہر میر پور کو اسلام گڑھ اور ڈڈیال سے ملانے والا رٹھوعہ ہریام پل 21 سال بعد مکمل ہونے کی راہ ہموار ہو گئی جس پر آزاد کشمیر کے وزراء، سیاسی رہنما، اوورسیز کشمیری اور صحافی بھی اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
آزاد کشمیر کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھنے والا محض 5 کلو میٹر پل دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہونے میں نقشہ کی بار بار تبدیلی، وقت پر فنڈز کی عدم فراہمی ، کرپشن اور سیاسی عمل دخل بھی شامل ہے۔
2003 میں مشرف دور میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ مکمل کرنے کے لیے 8 وزرائے اعظم وعدے کرتے رہے لیکن یہ منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔
آزاد کشمیر کے موجودہ وزیر اعظم چودھری انوار الحق اس منصوبے کی تکمیل کے لیے کافی متحرک ہیں انہوں نے وفاقی حکومت کے ساتھ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے کئی اجلاس بھی کئے جس کے نتیجے میں ایکنک نے رٹھوعہ ہریام پل منصوبے کے لیے 9 ارب 23 کروڑ روپے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری آزاد کشمیر کی حکومت کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے اسی لیے اس کی خوشخبری سنانے کے لیے وزیر اعظم انوار الحق نے کابینہ کے اہم اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔
رٹھوعہ ہریام پل کا زیادہ تر کام مکمل ہو چکا ہے اور 160 میٹرز کاحصہ دلدلی زمین کی وجہ سے تعمیر نہ ہو سکنے پر اتنی زیادہ تاخیر ہوئی کہ اس منصوبے کی تکمیل ایک خواب بن کر رہ گیا۔
اس منصوبے پر ایک چینی کمپنی نے کام کا آغاز کیا ۔ پل کے عین وسط میں دلدلی زمین کی وجہ سے کیبل کے ذریعے 160 میٹر حصہ مکمل کرنے کی تجویز آئی تو چینی کمپنی نے ڈھائی ارب روپے لاگت بتائی لیکن ایکنک نے صرف ڈیڑھ ارب روپے کی منظوری دی جس کی وجہ سے کام میں ایسی تاخیر ہوئی کہ لاگت بڑھتی ہی چلی گئی۔
آزاد کشمیر کے امور ہر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ کار خواجہ متین کہتے ہیں کہ یہ منصوبہ منگلا ڈیم اپریزنگ کے دوران متعارف کرایا گیا ، ڈیم جن علاقوں کو تقسیم کرتا ہے اس پل کے ذریعے ان علاقوں کو آپس میں جوڑنا تھا۔ ڈیم کی اپریزنگ ہوگئی مگر بدقسمتی سے یہ منصوبہ مکمل نہ ہو سکا حالانکہ اس کا تقریباً 80فیصد کام 2014 میں ہی مکمل ہو چکا تھا۔ ایک تھوڑا ساحصہ ڈیم کے عین وسط میں ہونے کی وجہ سے کچھ تکنیکی مسائل تھے ۔ پبلک ٹی وی کی اینکر پرسن ثناء مرزا کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ متین کا کہنا تھا کہ یہ صرف اسلام گڑھ اور میرپور کو ملانے کا منصوبہ نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے ڈڈیال ،سماہنی سمیت آزاد کشمیر کے پانچ چھ اضلاع کو آپس میں منسلک کرنا تھا ۔ یہ اوورسیز کشمیریوں کا علاقہ ہے جو اس ادھورے منصوبے سے پریشان ہیں۔ یہ پل میرپور سے ملحقہ علاقوں کا سفر45 منٹ سے کم کر کے 10 منٹ تک لے آئے گا۔ اس پل سے محض سفری فاصلہ کم نہیں ہونا بلکہ معاشی سرگرمیوں اور سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ اتنے اہم منصوبے کی تکمیل میں غفلت برتنے والوں کے خلاف وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر حکومت کو سخت ایکشن لینا چاہئے۔
خواجہ متین کے مطابق منصوبے کی تکمیل میں فنڈز کی کمی بڑی رکاوٹ تھی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فنڈز کا مسئلہ حل کر دیا یے اب دسمبر تک یہ منصوبہ مکمل ہونے کی امید ہے۔ جیسے ہی ڈیم میں پانی کی سطح کم ہو گی تو کام شروع ہو جائے گا۔

آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ کار اعجاز عباسی کہتے ہیں کہ رٹھوعہ ہریام پل واقعی ایک میگا منصوبہ ہے ۔2017 سے اس منصوبے پر کام بند تھا اس منصوبے کی تکمیل کے لیے 9 ارب23 کروڑ روپے کی منظوری بہت بڑی پیشرفت ہے تاہم دسمبر تک کام مکمل ہونا ممکن نہیں۔ اگر پل کے دونوں حصوں کو جوڑنے کے لیے بیرون ملک سے سٹیل کاتیار شدہ پل منگوا کر نصب کرنا ہے تو بھی یہ کام دسمبر تک نہیں ہو سکتا۔ اگر دلدلی زمین میں ڈرلنگ کر کے پلرز کا سہارہ لینا ہے تو اس صورت میں بھی ڈیڑھ سال سے کم عرصہ میں تکمیل نظر نہیں آتی۔
اعجاز احمد عباسی کے مطابق اگر ڈیڑھ سال میں بھی یہ منصوبہ مکمل کر لیا جاتا ہے تو بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ یہ پل ایک ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونا تھا لیکن عوام کی بھلائی کے منصوبے کو جب ایک مافیا نے کمائی کا منصوبہ بنا لیا تو 21 سال بعد بھی یہ پل ادھورا ہے اور محض 160 میٹر حصے کی لاگت بھی 10 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے