بلاول بھٹو کا حکومت سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کا مطالبہ
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر زور دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک بار پھر اپوزیشن کی جانب بات چیت کے لیے ہاتھ بڑھائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی اپنانے کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر متحد ہونا ہوگا۔قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو مشکل مگر آئینی فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے حتی الامکان کوشش کی کہ یہ قدم نہ اٹھانا پڑے۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت جنگ، بیرونی جارحیت یا صوبائی حکومت کے قابو سے باہر اندرونی بدامنی کی صورت میں صدرِ مملکت ایمرجنسی نافذ کر سکتے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کا اہم کردار ہے اور صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ آخری آپشن تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت یہ اقدام روکنا چاہتی تھی تو اسے کوئی ایسی وجہ پیش کرنی چاہیے تھی جس کی بنیاد پر ایمرجنسی سے گریز کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کی حمایت میں ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نے خود سیاسی خودکش حملہ کیا، تاہم دہشت گردی جیسے قومی مسئلے کو سیاست سے الگ رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ بھی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنانے کے لیے آگے بڑھے۔چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپوزیشن کو مذاکرات میں شامل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور پاکستان کی جانب سے تمام ممکنہ سیاسی راستے اختیار کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے لیے سیاسی گنجائش محدود ہونے سے دیگر جماعتوں کی سیاسی آزادی بھی متاثر ہوتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت کا مؤقف اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اہم ہے۔ ان کے مطابق تمام سیاسی قوتوں کو اس بات پر اتفاق کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کا مقابلہ مل کر کیسے کیا جائے اور اس سلسلے میں باقاعدہ معاہدہ کیا جائے۔انہوں نے حکومت سے دوبارہ اپوزیشن کی طرف مذاکرات کا ہاتھ بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ درمیانی راستہ نکال کر مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی مجبوری میں نافذ کی گئی ہے اور یہ اقدام ہمیشہ کے لیے نہیں، اصل ضرورت دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر لڑنے کی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے بھی ذمہ داری ادا کی اور ملک کو دہشت گردی کے سہولت کاروں کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے بھارت پر پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق میں شکست بھارت کو ہضم نہیں ہو رہی۔اپنے خطاب کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن اور پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان صرف ان کی جماعت کا نہیں بلکہ اپوزیشن اور پی ٹی آئی کا بھی ملک ہے، اس لیے قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام سیاسی قوتوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں