کشمیر کے جنگلات کو سیاحت کھا نہ جائے

آزاد کشمیر کی وادی نیلم کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین مقامات میں ہوتا ہے ۔ گھنے جنگلات، آبشار، جھلیں ، پہاڑ وادیاں ، دریا، آثار قدیمہ ، انتہائی نایاب جنگلی حیات ، جڑی بوٹیوں سمیت یہاں قدرت کی نعمتیں ہیں کہ دنیا بھر سے آنے والے سیاح رشک کرتے ہیں۔
آزاد کشمیر پولیس کے مطابق رواں 2024 میں صرف کوہالہ انٹری پوائنٹ سے آزاد کشمیر میں داخل ہونے والے سیاحوں کی تعداد 28 لاکھ سے زیادہ رہی۔ یہ سیاح کشمیر میں بنیادی طور پر سرسبز وادیوں اور برفباری سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کشمیر کے حسن کو دوبالا کرنے والے جنگلات آج کل سیاحوں کے ساتھ ساتھ سیاحت سے جڑی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مقامی آبادی کے ہاتھوں تباہ ہو رہے ہیں۔
وادی نیلم سے ایک دوست نے جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی کچھ تصاویر بھیجی ہیں اور ساتھ کچھ حقائق بھی بیان کیے ہیں جنہیں دیکھ اور سن کر یہ خدشہ ہونے لگا ہے کہ جن خوبصورت جنگلات کی وجہ سے کشمیر کا موسم خوابناک ہوتا ہے اور جن جنگلات کی وجہ سے سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں ان حسین اور گھنے جنگلات کے ساتھ انتہائی دردناک سلوک ہو رہا ہے ۔تاؤ بٹ نیلم کے خوبصورت ترین مقامات میں سے ایک ہے یہاں جنگلات کو بیدردی سے ختم کیا جارہا ہے ۔جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی وجہ یہ نہیں کہ یہ لکڑی سمگل ہوکر باہر جارہی ہے بلکہ اس کی وجہ سیاحوں کی آمدورفت کی وجہ سے ہونیوالی تعمیرات۔گیسٹ ہاؤسز کا قیام اور ان کی تعمیر میں لکڑی کا بے جا استعمال ہے ۔ یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو ان چٹیل پہاڑی ڈھلوانوں کو دیکھنے کون دس پندرہ گھنٹے کا سفر کرے گا۔
سینکڑوں کی تعداد میں درخت کاٹ کاٹ کر دریا کے بہاؤ کے ذریعے مختلف مقامات پر منتقل کئے جارہے ہیں۔ جگہ جگہ الیکٹرک آروں کی مدد سے انہیں چیر کر لکڑی استعمال میں لائی جارہی ہے۔جنگلات کو ختم کرنا ریاست کے ساتھ ظلم ھے۔ پہلے ناران میں لالہ زار کو تباہ کیا گیا ، بہت سے سیاح اب ناران میں لالہ زار جانا پسند نہیں کرتے ، اب کشمیرمیں بھی یہی کام شروع کر دیا گیا ہے۔
سیاحوں کے لیے ٹینٹ ویلج اور کیمپ سائٹس کا قیام عمل میں لاکر جنگلات کی کٹائی کو روکا جا سکتا ہے۔خوبصورت ،صاف ستھرے خیمے لگے ہوں جنہیں موسم کے اختتام پر لپیٹ لیا جائے اور موسم کی ابتداء کے ساتھ ہی کھڑا کردیا جائے ۔اگر صاف ستھرا ماحول ملے تو سیاحوں کو خیموں میں رہنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
نیلم میں ایک مسلہ یہ بھی ہے کہ آبادی بڑھ رہی ہے، سردی سے بچاؤ،گھریلوضروریات ، شادی بیاہ یا فوتگی پر کھانا پکانےاور مکانات کی تعمیر کے لیے ان دور دراز علاقوں کے لوگوں کا دار و مدار اسی لکڑی پر ہے ورنہ ان پہاڑوں پر تو ایک دن گزارنا بھی مشکل ہے۔
سوال یہ ہے کہ حکومت نے یہاں لوگوں کو کتنی سہولیات دی ہوئی ہیں۔ کتنے کالج ہیں کتنے ہسپتال ہیں ، سڑکیں کیسی ہیں، مظفرآباد سے تاؤبٹ کرایا کتنا لگتا ہے گیس ملتی ہے یا نہیں اگر ملتی ہے تو کتنے کی ملتی ہے ۔ جو لوگ ان پہاڑوں پر رہتے ہیں وہ کیوں رہتے ہیں۔
اگر حکومت یہاں لوگوں کو سہولیات نہیں دے گی تو اس کا نتیجہ جنگلات اور ماحول کی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔ جتنی تعداد میں سیاح آرہے ہیں اس کو ریاست کے لیے خیر میں بدلنا چاہئے ورنہ یہ سیاحت کشمیر کے حسن کو کھا جائے گی۔جنگلات کا کٹاؤ یقیناً قدرتی توازن کو بگاڑنے کا سبب بنتا ہے اور اس کے اثرات ماحول پر بہت منفی ہو سکتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جنگلات اور قدرتی وسائل کا تحفظ صرف قدرت کے فائدے کے لیے ہی نہیں بلکہ انسانیت کے فائدے کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر ہم قدرتی وسائل کی حفاظت کریں گے تو آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر مستقبل چھوڑ سکیں گے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے