شادی سے 12 دن پہلے خودکشی کا سوچ رہی تھی‘، مومنہ اقبال کا بڑا انکشاف
پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال نے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے ساتھ جاری تنازع پر خاموشی توڑتے ہوئے ان پر ہراسانی، بلیک میلنگ اور دھمکیاں دینے سمیت سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔صحافی ارشاد بھٹی کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں مومنہ اقبال نے دعویٰ کیا کہ انہیں مبینہ طور پر ان کی نجی تصاویر اور دیگر ذاتی مواد سوشل میڈیا پر جاری کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، جس کے باعث انہیں اپنی عزت اور ذاتی زندگی متاثر ہونے کا شدید خوف لاحق ہوگیا تھا۔اداکارہ نے ثاقب چدھڑ سے اپنے تعلق کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب ثاقب چدھڑ ان کے گھر رشتہ لے کر آئے تو ان کے والد نے ہاں کرنے سے قبل کچھ وقت مانگا تھا۔ مومنہ اقبال کے مطابق چند ماہ بعد انہیں ثاقب چدھڑ کی پہلی اہلیہ کے پیغامات موصول ہونا شروع ہوئے، جن سے انہیں معلوم ہوا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں۔مومنہ اقبال نے دعویٰ کیا کہ ثاقب چدھڑ کو توقع تھی کہ اس دباؤ اور تنازع کے نتیجے میں ان کے منگیتر حمزہ ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے، تاہم ایسا نہیں ہوا اور حمزہ مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہے۔اداکارہ نے اپنے شوہر کی حمایت کو اس مشکل دور میں اپنی بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ نے انہیں حالات کا مقابلہ کرنے میں مدد دی۔مومنہ اقبال نے ثاقب چدھڑ کے ساتھ اپنے تعلق اور رابطوں سے متعلق سامنے آنے والے بعض دعوؤں کو بھی مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں کی منگنی نہیں ہوئی تھی اور اگر ثاقب چدھڑ کے پاس اس تقریب کی کوئی تصاویر موجود نہیں تو وہ منگنی کا دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں۔انٹرویو کے دوران اداکارہ نے مبینہ طور پر چیٹ ریکارڈز اور دیگر دستاویزی شواہد بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق یہ مواد ثاقب چدھڑ کی جانب سے پہلے بیان کیے گئے تعلق اور رابطوں کی ٹائم لائن سے متعلق مؤقف کو چیلنج کرتا ہے۔مومنہ اقبال نے یہ تاثر بھی مسترد کیا کہ اس معاملے میں ان کا بنیادی مقصد ثاقب چدھڑ سے رقم حاصل کرنا تھا۔ اداکارہ کے مطابق وہ کسی مالی تصفیے کے بجائے یہ چاہتی تھیں کہ تنازع کی حقیقت عوام کے سامنے آئے۔ تاہم مالی معاملات کے حوالے سے دونوں فریقوں کے مؤقف مختلف ہیں۔واضح رہے کہ اس معاملے میں قانونی پیش رفت بھی جاری ہے۔ 3 ستمبر کو نئے ڈیجیٹل شواہد سامنے آنے کے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ دونوں کو تازہ نوٹس جاری کیے تھے۔این سی سی آئی اے نے نئے مواد کے ساتھ سابقہ تحقیقات کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی ہے۔ ٹیم کو تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کو پیش کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔مومنہ اقبال کی جانب سے انٹرویو میں سامنے آنے والے الزامات اور پیش کیے گئے مبینہ شواہد کے حوالے سے معاملے کی قانونی حیثیت کا حتمی تعین متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں