یہ کھلاڑیوں کیلئے زبردست لمحہ ہے، میچ ٹو میچ پلان کیا جس کی وجہ سے کامیابیاں ملتی رہیں: بابر اعظم
پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ٹرافی وصول کی۔
بابراعظم نے میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پشاور زلمی کے کھلاڑیوں اور اُن کے شائقین کے لیے زبردست لمحہ ہے، بابر اعظم نے کہا کہ انہوں نے میچ ٹو میچ پلان کیا جس کی وجہ سے کامیابیاں ملتی رہیں۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم نےکہا کنڈیشنز اور پچز اچھی تھیں، لاہور اورکراچی کی پچز میں بھی فرق تھا، گراؤنڈ اسٹاف کو کریڈٹ دینا چاہیے، کنڈیشنز مختلف ہونےکی وجہ سےصورتحال کا جائزہ لینا بہت ضروری ہوتا ہے۔
بابراعظم بولے فیملی کے بعد سب سے زیادہ دعائیں فینز کی تھیں، فیملی کی دعائیں بہت ہوتی ہیں، والدین کی دعاؤں سے یہاں پہنچا ہوں، ہمیں اپنے اعصاب پر قابو پانا تھا اس پر ایک دوسرے سے بات ہوئی تھی۔
بابراعظم کاکہنا تھا کہ وہ مائنڈ سیٹ اور کنڈیشنز کو دیکھ کر خود کو ایڈجسٹ کریں گے، پلیئر کا کام کھیلنا ہے، یہ پلیئر نے فیصلہ نہیں کرنا کہ کس فارمیٹ میں کھیلنا ہے، پلیئر کو تینوں فارمیٹ کھیلنا چاہیے۔
بابراعظم بولے جشن کا ٹائم کم ہے، صبح بنگلا دیش روانہ ہونا ہے، ٹیسٹ کے لیے بنگلا دیش جا کر تیاری کروں گا، ٹرافی کو پشاور بھی لے کر جائیں گے۔
دوسری جانب حیدر آباد کنگز مین کے کپتان مارنس لبوشین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے فائنل میں کم رنز کئے، اوور آل ہماری ٹیم کی کارکردگی بہت اچھی رہی، ناک آوٹ گیمز میں ٹیم نے شاندار کھیل پیش کیا۔
یاد رہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کے فائنل میچ میں پشاور زلمی، حیدرآباد کنگز مین کو 5 وکٹ سے شکست دے کر دوسری بار پی ایس ایل کی چیمپئن بن گئی، پشاور زلمی دوسری مرتبہ پی ایس ایل کی چیمپئن بنی ہے۔
پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پشاور زلمی کے خلاف حیدرآبادکنگزمین کی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی اور پوری ٹیم 18 اوور میں 129 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
ہدف کے تعاقب میں ابتدا میں پشاور زلمی کو مشکلات کا سامنا رہا ، کپتان بابر اعظم صفر پر آؤٹ ہوئے، حارث نے 6 اور کوشال مینڈس نے 9 رنز بنائے۔بریسویل بھی 4 رنز بناسکے۔
زلمی کی چوتھی وکٹ 40 رنز پر گرگئی تھی جس کے بعد ایرون ہارڈی نے 56 اور عبدالصمد نے 48 رنز کی اننگز کھیلی اور ٹیم کو فتح دلوادی۔
پشاور زلمی نے 130 رنز کا ہدف 16ویں اوور میں 5 وکٹ کے نقصان پر حاصل کرلیا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں