ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق، 40 روزہ سوگ کا اعلان
ایرانی میڈیا نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کردی ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے سپریم حملے میں مارے گئے ہیں۔
فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کی حکومت نے ملک بھر میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت نے سات روزہ عام تعطیل کا بھی اعلان کیا ہے۔
ایران کی خبر رساں ایجنسیوں ’تسنیم‘ اور ’فارس‘ نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایرانی سپریم لیڈر ساتھیوں کے ہمراہ زیرِ زمین بنکر میں تھے، ان کے کمپاؤنڈ پرتیس بم گرائے گئے، جس کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر درجنوں ساتھیوں سمیت شہید ہوئے۔
فارس نے رپورٹ کیا ہے کہ خامنہ ای ہفتے کی صبح اپنے دفتر میں ’تفویض کردہ فرائض کی انجام دہی‘ کے دوران شہید ہوئے۔
وائٹ ہاؤس نے بھی صدر ٹرمپ کا سماجی رابطے کی سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک پیغام اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ری پوسٹ کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ خامنہ ای شہادت اب نہیں رہے۔
قبل ازیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران پر کیا گیا حالیہ حملہ بہت کامیاب اور انتہائی طاقتور تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں ایران کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا اور موجودہ صورتحال میں ایران بنیادی طور پر معذور ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اس حملے کے بعد ایران کو دوبارہ سنبھلنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ تنازع لمبا چل سکتا ہے یا ممکن ہے چند دنوں میں ختم ہو جائے، یہ حالات پر منحصر ہوگا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر کے انتقال کی خبریں درست معلوم ہوتی ہیں۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی دعوٰی کیا تھا کہ اسرائیل اور امریکا کے حالیہ حملوں کے بعد متعدد اشارے ملے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اب نہیں رہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے ہفتے کو ایک ویڈیو بیان میں دعوٰی کیا کہ اسرائیل اور امریکا کی حالیہ فضائی کارروائیوں کے دوران متعدد اشارے ملے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈرخامنہ اب نہیں رہے۔
نیتن یاہو نے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ہفتے کی صبح انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا اور تباہ کیا۔
اسرائیل کے وزیراعظم نے یہ دعویٰ بھی کہ حملوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اور دیگر سینئر جوہری حکام بھی مارے گئے اور آنے والے دنوں میں ایران میں مزید اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔
نیتن یاہو کا ویڈیو بیان میں یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کے خلاف کارروائی جب تک ضروری ہوگا جاری رہے گی۔
ادھر، الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے نام نہ ظاہر کرنے والے اسرائیلی اہلکاروں کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای حملوں میں مارے گئے ہیں۔
آیت اللہ خامنہ کی شہادت کی تصدیق سے قبل ایرانی حکام مسلسل اس بات کی تردید کر رہے تھے کہ ایرانی سپریم لیڈر کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ سے جب بی بی سی نے سوال کیا کہ کیا ملک کی اعلیٰ قیادت محفوظ ہے، تو ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ وہ اس وقت کسی بات کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ تاہم بعد میں انہوں نے واضح کیا کہ سپریم لیڈر اور صدر خیریت سے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر کے میڈیا آفس نے بھی اسرائیلی دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم لیڈر محفوظ ہیں اور ان کے بارے میں پھیلائی جانے والی خبریں درست نہیں۔ میڈیا آفس کا کہنا تھا کہ دشمن ذہنی جنگ لڑ رہا ہے اور عوام کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
قطر کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے دفتر کے ترجمان نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ دشمن ممالک یہ خبریں پھیلا کر ذہنی دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، سب کو ہوشیار رہنا چاہیے۔
الجزیرہ کے مطابق ایران کا کہنا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای ٹھیک اورمحفوظ مقام پرہیں۔ عباس عراقچی نے این بی سی نیوزکو بتایا کہ جہاں تک انھیں علم ہے، سپریم لیڈر اور دیگر اعلیٰ ایرانی عہدے دار صحت مند ہیں اور محفوظ ہیں۔
واضح رہے کہ ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بحری اور فضائی حملے کیے جن میں 201 ایرانی شہری جاں بحق اور 747 زخمی ہوئے۔ خبر ایجنسی کے مطابق حملوں میں ایرانی وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور شہید ہوئے ہیں۔
ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب سات میزائل گرے تھے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں