افغانستان سے پاکستان لائے گئے غیر ملکی اسلحہ سے دہشت گردی
پاکستان میں دہشت گردی کے لئے امریکی اسلحہ استعمال ہونے کے مزیدثبوت سامنے آگئے اور یہ حقیقت بھی کھل کرسامنے آگئی ہے کہ افغان انتظامیہ پاکستان میں دہشتگردی کرکے لئے ٹی ٹی پی کو مسلح کرنے اور محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے میں ملوث ہے۔
افغان سرزمین سے پاکستان میں دراندازی کی کوششیں اور آئے روز دہشتگرد حملوں کی سہولت کاری اب معمول بنتا جارہاہے ،پاکستان میں حملوں کے لئے دہشتگردوں کوامریکی اور مغربی افواج کا چھوڑا ہوا اسلحہ فراہم کرنے کے واقعات میں بھی تیزی آتی جارہی ہے۔
یوروایشین ٹائمز کے مطابق پاکستان میں حالیہ عرصے کے دوران دہشت گردی کی تمام بڑی وارداتوں میں امریکی اور مغربی افواج کے زیراستعمال رہنے والا اسلحہ استعمال ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے جن میں میانوانی ایئربیس،گوادراتھارٹی کمپلیکس،نوشکی،پنجگوراور ڈی آئی خان میں ہونے والے بڑے دہشتگرد حملے شامل ہیں۔
اٹھارہ اورانیس اگست 2024 کو مستونگ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں بی ایل اے کے 3 دہشت گردہلاک اور 3 زخمی ہو ئے۔یہ دہشت گردنجگور کے ڈپٹی کمشنر ذاکر علی کی شہادت کے بھی ذمہ دار تھے۔ ہلاک دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ غیرملکی تھا۔14 مئی 2024 کوبلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ اور29 اپریل 2024 کوخیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے دوران پکڑا گیا اسلحہ غیر ملکی تھا،ضلع خیبر میں آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگردوں کی شناخت قاری واجد عرف قاری بریال اور رازق کے نام سے ہوئی۔چوبیس اور پچیس اپریل 2024 کو بھی ضلع خیبر میں انٹیلی جنس آپریشن میں 3 دہشت گردہلاک ہوئے جن میں دہشت گرد سرغنہ سہیل عرف عظمتو اور دہشت گرد سرغنہ حاجی گل عرف زرکاوی شامل تھے ہیں ۔ مارے گئے ان دہشت گردوں سے بھی غیر ملکی اسلحہ برآمد ہوا۔بائیس اور تئیس اپریل 2024 کی رات بلوچستان کے ضلع پشین میں 3 دہشت گردوں کوہلاک اورایک کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا جس کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی ۔
ان دہشتگردوں سے بھی غیر ملکی اسلحہ برآمد ہوا۔چھ اپریل 2024 کو شمالی وزیرستان میں 2 دہشت گردوں کو ہلاک کیاگیا۔بی ایل اے نے 20 مارچ 2024 کو گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر حملہ کرنے کی ناکام کوشش کی اس حملے میں بھی غیر ملکی اسلحہ استعمال کیا گیا۔انتیس جنوری کو ضلع شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس آپریشن کے نتیجے میں دہشتگرد نیک من اللہ کوہلاک کیاگیا تواس سے برآمد ہونے والا اسلحہ بھی غیر ملکی ساختہ نکلا۔انیس جنوری کو میران شاہ میں پاک افغان سرحد پر بچی سر کے مقام پر میں سرحد پار کرنے والے 2 دہشتگردوں کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کیا۔ اکتیس دسمبرکو بھی باجوڑ میں پاک افغان سرحد پار کرنے والے 3 دہشتگردوں کوہلاک کیا گیا تھا۔
اِس سے پہلے 29 دسمبر کو بھی ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں دہشت گرد کمانڈر راہزیب کھورے سمیت 5 دہشت گرد ہلاک ہوئے، ان تمام واقعات میں برآمد ہونے والاغیر ملکی اسلحہ افغان سرزمین سے لایاگیاتھا۔اس سے قبل بھی متعدد بار پاکستان میں دہشتگردی کے حملوں میں غیر ملکی ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے بھی ایسے ہی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے فروری 2022 میں نوشکی اور پنجگور اضلاع میں ایف سی کیمپوں پر حملے کیے۔
بارہ جولائی 2023 کو ژوب گیریژن پر ہونے والے حملے میں بھی ٹی ٹی پی کی جانب سے غیر ملکی اسلحہ کا استعمال کیا گیا۔چھ ستمبر 2023 کو جدید ترین غیر ملکی ہتھیاروں سے لیس ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے چترال میں 2 فوجی چیک پوسٹوں پر حملہ کیا۔چار نومبر کو میانوالی ائر بیس حملے میں دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ غیر ملکی ساخت کا تھا۔ بارہ دسمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں ہونے والے دہشتگردی کے حملے میں بھی دہشتگردوں کی جانب سے نائٹ ویژن گوگلز اور امریکی رائفلز کا استعمال کیا گیا۔ پندرہ دسمبر کو ٹانک میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعہ میں دہشتگروں کے پاس جدید غیر ملکی اسلحہ پایا گیا۔
حملے میں 3 پولیس اہلکار شہید اور 5 دہشتگرد جہنم رسید ہوئے۔ دہشتگردوں نے ان تمام وارداتوں میں غیر ملکی اسلحہ استعمال کیا۔تیرہ دسمبر کو کسٹمز اور سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے پاکستان آنے والی گاڑی سے پیاز کی بوریوں سے بھی جدید غیر ملکی ہتھیار برآمد کیے۔ اسلحہ میں جدید امریکی ساختہ ایم فور، امریکی رائفل اور گرینیڈز شامل تھے۔
افغانستان سے جدید غیر ملکی اسلحہ کی پاکستان اسمگلنگ اور ٹی ٹی پی کا سکیورٹی فورسز اور پاکستانی عوام کے خلاف غیر ملکی اسلحہ کا استعمال افغان عبوری حکومت کا اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے کے دعووں پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔پینٹاگون کے مطابق امریکا نے افغان فوج کو کل 427,300 جنگی ہتھیار فراہم کیے، جس میں 300,000 انخلا کے وقت باقی رہ گئے۔ اس بنا پر خطے میں گزشتہ 2 برس کے دوران دہشت گردی میں وسیع پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا ہے۔ امریکا نے 2005 سے اگست 2021 کے درمیان افغان قومی دفاعی اور سکیورٹی فورسز کو 18.6 ارب ڈالر کا سامان فراہم کیا۔امریکی انخلا کے بعد ٹی ٹی پی نے ان ہتھیاروں کے ذریعے پاکستان میں حملوں کاسلسلہ تیز کردیا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں