مقبوضہ کشمیر میں فراڈ الیکشن نا قابل قبول،صدر آزاد کشمیرچوہدری لطیف اکبر

صدر آزادکشمیر چوہدری لطیف اکبر نے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی نگرانی میں فراڈالیکشن کو مسترد کردیا۔ایوان صدر مظفرآباد میں پریس کانفرنس کے دوران صدر آزاد کشمیر چودھری لطیف اکبر کا کہنا تھا کہ ہندوستان کا 5 اگست کا اقدام اقوام متحدہ کی قرار دادوں کیخلاف ہے۔ اب بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیرمیں تین مرحلوں میں مسلح افواج کے سنگینوں کے نیچے الیکشن کروائے جا رہے ہیں۔آرڈیننس کے ذریعے لیفٹیننٹ کرنل کو اختیارات سونپے گئے ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ کشمیری عوام مقبوضہ کشمیر کے فراڈانتخابات کومسترد کرتے ہیں۔ یہ انتخابات رائے شماری کا نعم البدل نہیں ہوسکتے۔ جعلی اور فراڈ الیکشن کسی صورت قبول نہیں ہیں۔
چودھری لطیف اکبر نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق بیک وقت دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 میں  ڈی لیمیٹائزیشن کرکے وادی میں صرف ایک جبکہ جموں میں6 سیٹوں کا اضافہ کیا گیا ۔ بھارت اپنے غیر آئینی اقدامات کو اسمبلی کے ذریعے تحفظ دینا چاہتا ہے۔ بھارت جعلی انتخابات سے ایک ایسی اسمبلی بنانا چاہتا ہے کہ اپنے مقاصد حاصل کر سکے
۔صدر آزادکشمیر نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان بھارت کے اس اقدام کو دنیا بھر کے سامنے بے نقاب کرے۔ ریاست پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی حمایت کی ہے یہی وجہ ہے کہ ہر کشمیری پاکستان بننے کیلئےجدوجہد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے بھارت کے پانچ اگست کے اقدامات کو قبول نہیں کیا۔اقوام متحدہ کی قراردادیں ہمیں اجازت دیتی ہیں کہ آزادی کیلئےجدوجہد کریں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے