وفاقی کابینہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کےلئے وقف

اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد اور بحالی کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء، چیئرمین این ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا کے متاثرین کے لیے وفاقی کابینہ کی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں وفاقی یا صوبائی حکومت کی تفریق نہیں ہونی چاہیے، بلکہ متاثرہ پاکستانیوں کی مدد کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ خدمت اور عوام کے دکھوں پر مرہم رکھنے کا ہے۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت دی کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیاء کی تقسیم اور بحالی کے آپریشن کی براہ راست نگرانی وفاقی وزراء خود کریں۔ وزیرِ امور کشمیر و گلگت بلتستان کو مجموعی ریلیف آپریشن کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی، جبکہ وزیرِ مواصلات اور چیئرمین این ایچ اے کو ہدایت دی گئی کہ سڑکوں اور پلوں کی بحالی میں کسی صوبائی یا قومی تخصیص کے بغیر راستے کھولنے کو پہلی ترجیح بنایا جائے۔

وزیرِ بجلی کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے فوری طور پر بجلی کا نظام بحال کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ وزارتِ صحت کو میڈیکل ٹیمیں اور ادویات فراہم کرنے کے لیے کہا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک 456 ریلیف کیمپس قائم اور 400 سے زائد ریسکیو آپریشن مکمل کیے جاچکے ہیں۔ این ڈی ایم اے نے خیمے، راشن، ادویات اور میڈیکل ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچا دی ہیں۔

محتاط اندازے کے مطابق 126 ملین روپے سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ستمبر کے دوسرے ہفتے تک مون سون کا سلسلہ جاری رہے گا اور مزید 2 اسپیل متوقع ہیں۔

وزیرِ اعظم نے این ڈی ایم اے کو فوری طور پر نقصانات کی حتمی رپورٹ اور امدادی اشیاء کی تقسیم کا جامع لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت دی، جبکہ وزارتِ خزانہ کو ضروری وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف  نے کہا کہ جب تک متاثرہ علاقوں میں آخری شخص کو مدد نہیں پہنچتی اور بنیادی انفراسٹرکچر بحال نہیں ہوتا، متعلقہ وفاقی وزراء متاثرہ علاقوں میں موجود رہیں گے۔ اجلاس کے اختتام پر وزیرِ اعظم اور شرکاء نے جاں بحق افراد کے ایصالِ ثواب اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے