پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، اضافی سکیورٹی طلب

پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاج کے خدشے کے پیش نظر اڈیالہ جیل انتظامیہ نے اضافی سکیورٹی مانگ لی۔

سپرنٹنڈنٹ جیل عبدالغفور انجم نے سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) راولپنڈی کو تحریری طور پر مطلع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیل میں 7700 قیدی موجود ہیں جبکہ گنجائش محض 2174 کی ہے، جن میں سیاسی اور دہشتگردی کے قیدی بھی شامل ہیں، جس سے سیکیورٹی خدشات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے 5 اگست کو اڈیالہ جیل کے باہر مظاہرے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس کے پیش نظر داہگل چیک پوسٹ سے جیل کے گیٹ نمبر 5 تک پولیس فورس تعینات کی جائے، بیریئرز لگائے جائیں اور فول پروف نگرانی کی جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

جیل حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود اگر کوئی غیر قانونی اجتماع ہوا تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس ضمن میں ہوم ڈپارٹمنٹ، آئی جی جیل خانہ جات اور آر پی او سے بھی رابطہ کیا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی کے تمام پہلو مکمل طور پر محفوظ بنائے جا سکیں۔

ادھر پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاجی پلان کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی نے اپنے تمام ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز کو اسلام آباد طلب کر لیا ہے، جو اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج میں شرکت کریں گے، جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اپنے اپنے حلقوں میں مظاہرے کریں گے۔

اسی ممکنہ احتجاج کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ کی صدارت میں ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے راولپنڈی بھر میں فوری طور پر دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندی 10 اگست تک برقرار رہے گی، جس کے تحت چار یا زائد افراد کے اکٹھ، ریلیوں، جلسوں اور جلوسوں پر مکمل پابندی ہو گی۔

ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے گریز کریں، بصورت دیگر قانون کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ نے بھی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے، کسی بھی غیرقانونی سرگرمی کا حصہ بننے والوں کے خلاف کارروائی کی جائےگی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے