وزیر ریلوے حنیف عباسی اور ازبک سفیرکی اہم ملاقات

پاکستان، ازبکستان اور افغانستان کے درمیان ریلوے ٹرانزٹ راہداری منصوبے پر اعلیٰ سطحی ملاقات میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے اس منصوبے کو خطے کی معاشی و تجارتی ترقی کے لیے اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ملاقات کے دوران تینوں ممالک نے 850 کلومیٹر طویل ریلوے کنیکٹیویٹی کے منصوبے پر عملی پیش رفت پر اتفاق کیا۔ اس منصوبے کے تحت افغانستان میں 647 کلومیٹر نئی ریلوے لائن تعمیر کی جائے گی، جو ازبکستان سے ہوتے ہوئے پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی فراہم کرے گی۔

پاکستان کے وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان کو وسطی ایشیا تک سب سے مختصر زمینی راستہ میسر آ جائے گا، جو نہ صرف وقت بلکہ مال برداری کی لاگت میں بھی نمایاں کمی لائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ راہداری کے ذریعے سالانہ 15 ملین ٹن سامان کی ترسیل کی صلاحیت سے خطے میں تجارتی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ منصوبہ پاکستان کے بندرگاہی انفراسٹرکچر کو عالمی منڈیوں سے براہِ راست منسلک کرے گا، جو ایک بڑی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

یہ منصوبہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو (BRI) کے تحت خطے میں سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی ترقی کا اہم حصہ ہے۔ ازبکستان کے سفیر نے ملاقات کے دوران پاکستان کے ریلوے سیکٹر میں سرمایہ کاری کے مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے اس تعاون کو مستقبل کی خوشحالی کی بنیاد قرار دیا۔

فریقین نے اس منصوبے کے ذریعے افغانستان میں امن و استحکام کے ممکنہ مثبت اثرات کو بھی سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ منصوبہ پورے خطے کو باہم جوڑنے اور معاشی ترقی کو تقویت دینے کا ذریعہ بنے گا۔

دونوں ممالک نے ریلوے شعبے میں تکنیکی تعاون بڑھانے، مشترکہ اقدامات کرنے، اور تجارتی و اقتصادی روابط کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیر ریلوے نے ازبکستان کے کامیاب ریلوے ماڈل سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان میں ریلوے کی جدید کاری اور بہتری کا عزم دہرایا۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے نہ صرف ریلوے بلکہ دیگر اہم اقتصادی شعبوں میں بھی دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے اور مشترکہ منصوبوں پر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے