ٹرانسفر ججز کیلئے بنیادی اصول کیا اور کیسے طے کیا؟سپریم کورٹ
سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ ججز سنیارٹی کیس کی سماعت میں جسٹس نعیم افغان نے سوال کیا کہ ٹرانسفر ججز کے لیے بنیادی اصول کیا اور کیسے طے کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کی جس دوران اٹارنی جنرل پاکستان نے دلائل دئیے ۔
اٹارنی جنرل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفرنگ ججز کی نئی تقرری نہیں ہوئی، ججز ٹرانسفر پر آئیں ہیں تو نئے حلف کی ضرورت نہیں، سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے سنیارٹی تقرری کے دن سے شروع ہوگی۔
اٹارنی جنرل نےکہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ججز کی سنیارٹی کا تعین اس وقت کےچیف جسٹس نے کیا، جسٹس عامر فاروق سنیارٹی کے تعین میں مکمل آزاد تھے، 4 ہائیکورٹ چیف جسٹسز اوررجسٹرار کی رپورٹ میں ججز تبادلہ پرکوئی سوال نہیں اٹھایا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ 5 ججز کی ریپریزنٹیشن پر جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ دیا۔
جسٹس شکیل احمد نے سوال کیا کہ سیکرٹری لاء نے ٹرانسفرنگ ججز کی حلف نہ اٹھانے کی وضاحت کیوں دی؟ اٹارنی جنرل نے کہا وضاحت اسلیے تھی کہ ایڈوائس کی منظوری کے بعد ججزکےنوٹیفکیشن میں ابہام نہ ہو۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں